بیت بازی — Page 6
بڑھیں اور دنیا کو بڑھائیں پڑھیں اور ایک عالم کو پڑھائیں بھنور میں پھنس رہی ہے کشتی دیں تلاطم بھر ہستی میں بیا بے سر و ساماں ہوں اس دنیا میں اسے میرے خدا اپنی جنت میں بنا دیں آپ میرا ایک گھر كلام طاهر بن بیٹھے خدا بندے۔دیکھا نہ مقام اس کا طاغوت کے چیلوں نے ہتھیا لیا نام اس کا بس دعائیں کرو یہ دُعا ہی تو تھی جس نے توڑا تھا سر کبر نمرود کا ہے ازل سے یہ تقدیر نم رو دیت آپ کی آگ میں اپنی قبل جائے گی بچے بھو کے گریاں ترساں۔ایک کی کو لرزاں لرزاں کٹیا میں افلاس کے بھوت کا نا چا سا یہ ساری رات بساط دنیا الٹ رہی ہے حسین اور پائیدار نقشے جہات کو کے اُبھر رہے ہیں۔بدل رہا ہے نظام کہنا بند شکیب توڑ کر آنسو برس پڑے اپنوں یہ بھی نہیں ہے مجھے اختیار دیکھے در عدن احمد احمد بخدا بے عدیل ہے احمد شان رب جلیل ہے عزو فخر خلیل ہے بن کے ابر کرم جو تو آیا باعت تازه حضرت آدم بھر رحمت نے جوش فرمایا بخاردل بہت تھوڑی پونجی ہے ایمان کی اور اس پر بھی نیت ہے شیطان کی بارگاه احدیت کو پکاروں کیوں کہ ایک درویش کہاں قاضی حاجات کہاں نجد و بر کے ہر سفر میں آپ کے خضر راہ ہوں حضرت خیر الانام در ثمین پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا پھولوں کو چاکے دیکھو اسی سے وہ آب ہے چھکے اُسی کا نور پسر و آفتاب میں مہ پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم ہود پھر سیسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ بجبہ دار