بیت بازی

by Other Authors

Page 5 of 52

بیت بازی — Page 5

در عدن آج ہر ذرہ بہر طور نظر آتا ہے جس طرف دیکھو دی نور نظر آتا ہے السلام اے ہادی راہ ہدی جان جہاں والصلوۃ اے خیر مطلق اے شہ کون ومکاں آپ چل کر تو نے دکھلا دی رہ وصل حبیب تو نے بتلایا کہ یوں ملتا ہے یار بے نشاں ایک ہی زمینہ ہے اب بام مرار وصل کا ہے ملے تیرے ملے ممکن نہیں وہ داستان اہے بخارول اسے خوشا وقت کہ پھر وصل کا ساماں ہے وہی دست عاشق ہے دہی یار کا درماں ہے وہی آتش عشق و محبت کا دہی زور ہے پھر قلب بریاں ہے وہی دیده گریاں ہے وہی اس وسیلہ کے سوا وصل کی صورت ہی نہ تھی قاصد بارگہ حضرت ذیشاں ہے وہی در ثمین باغ میں تیری نعمت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار بے خدا ہے زہد و تقویٰ بے دیانت ابے صفا بن ہے یہ دنیائے دوں طاعوں کرے اس میں شکار بستر راحت کہاں ان فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہو رہا ہے بدتر از شب ہائے تار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار بد گمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار بے خدا کوئی چیز کیوں کر ہو! یه سراسر خطا ہے دیدوں کا بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میر بوستان میں بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات کلام محمود بُرائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں ! ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں نہیں ابلیس نافرماں کے قاتل ہوائے احمدیت کے ہوں حامل