بیت بازی — Page 7
پاک دل پر بد گمانی ہے یہ شقوت کا نشان اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رب ذوالفین یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے یار پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی پر ان سید دلوں کا شیوہ سدا ہی ہے پہلے صحیفے سارے لوگوں نے جب لگائے دنیا سے وہ سدھارے نوشہ نیا ہی ہے پہلوں سے خوب تو بے خوبی میں اک تمر ہے اس پر ہر اک نظر ہے بدرالد بنی یہی ہے پھر بہار دیں کو دکھلائے میرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن کلام محمود پاکس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ و صدقہ فکر مسکین رہے تم کو غمر ایام نہ ہو پل بھر میں میل سینکڑوں برسوں کی دھل گئی صدیوں کے مجرے ایک نظر میں کدھر گئے پُر کر گئے فلاح سے جھوٹی مراد کی دامان آرزو کو سعادت سے بھر گئے پر تری پشت پر وہ ہے جسے کہتے ہیں خدا جس کے آگے ہے مالک کا بھی ہوتا سرخیم چھوئے تو اگر مجھ کو تو میں اتنی ہوں ساتی رہوں تا حشر قدموں پر تیرے میں سرنگوں ساقی پر مسلمان راستہ پر محو حیرت ہے کھڑا کہہ رہا ہے اس کو مالی اک قدم آگے چل كلام طاهر پھر بانغ مصطفے کا دھیان یا دامن کو سینچا پھر انسوں سے احد نے اس چھین کو پیار کے پھول دل میں سجائے ہوئے اور ایماں کی شمعیں اُٹھائے ہوئے قابلے دور ولیوں سے آئے ہوئے غمزدہ اک بولیں آشیاں کے لے پھول تم پر فرشتے نچھا دور کریں ، اور کشادہ ترقی کی راہیں کریں نہ آرزو میں مری جو دعائیں کریں ، رنگ لائیں میرے مہماں کے لئے پشاور سے انہی راہوں پر کسنگستان کابل کو میرا شہزادہ لے کر جان کا نذرانہ آتا ہے پورب سے چلی چلی پر تم پر غم باد روح و ریحان وطن دي عدن اڑتے اڑتے پہنچے بچم نداشتند ر مرفان وطن پر شاہ دو عالم کے پیرو کو مین کے وارث بنتے ہیں موجود ہے جو مقصود ہے جو دونوں ہی حاصل ہوتے ہیں پیشوائی کے لئے نکلیں گھروں سے مرد و زن یہ خبر سن کر کے آئے پیشوائے قادیاں