برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 4 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 4

، برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی دوسری اہم جنگ اپریل ۱۸۴۸ء میں ڈیرہ غازیخان میں ہوئی جہاں بنوں کے لیفٹنٹ (بعد ازاں سر ) ہر بر ہرٹ ایڈورڈ مسلمانوں کا لشکر جرار لے کر میدانِ جنگ میں نہایت کمتر وفر کے ساتھ پہنچ گئے۔اس جنگ میں جو ام مئی ۱۸۴۶ ء کو سکھوں کی شکست پر منتج ہوئی ، ڈیرہ غازیخان کی مقتدر سماجی، فوجی و سیاسی شخصیت تمندار اور کھوسہ قبیلہ کے بہادر لیڈ رکوڑا خاں اور اس کے بہادر سپاہیوں نے شجاعت کے ایسے مثالی کارنامے دکھلائے کہ انگریز نی سلطنت نے ان کو زبر دست کوزبر خراج تحسین ادا کیا خصوصا رئیس اعظم کوڑا خاں تمندار اور ان کے بہادر فرزند کو عالی جاہ کے بہترین خطاب سے نوازا اسی پر بس نہیں وائسرائے ہند لارڈ ڈلہوزی نے خاں صاحب کو ان کے آبائی وطن میں نہ صرف ایک باغ بھی انعام کے طور پر عطا کیا بلکہ ان کی جاگیروں کی توثیق کر کے ان کے جذ بہ پہ گری اور انگریزوں سے بے مثال وفاداری کے ثبوت کے لئے اپنی قدردانی کا اظہار کیا۔یہ " تاریخ پنجاب اردو تر جمه صفحه ۱۰۲۳ از عالی جناب خان بہادر شمس العلماء سید محمد لطیف صاحب ٹیٹو پنجاب یونیورسٹی ممبر ایشیاٹک سوسائیٹی آف بنگال۔ناشر تخلیقات لاہور نومبر ۱۹۹۴ء) تیسری خونریز جنگ دریائے چناب کے کنارے واقع کنیری کے مقام پر ۱۸ رجون ۱۸۴۸ء کوٹڑی گئی۔اس موقع پر عالیجناب نواب بہاولپور صاحب نے جذبہ جہاؤ کی فروانی کا نیاریکارڈ قائم کیا انہوں نے انگریز جرنیل عزت مآب لیفٹینٹ ایڈورڈ کو پانچ ہزار سپاہیوں کی ایک زبر دست فوج سرحدی مسلمانوں کی پیش فرمائی۔اسی طرح سبحان خان کی ایک پُر شکوہ پیادہ فوج کی پلٹن نے اپنے محبوب انگریزوں کے لئے اپنے مقدس خون کے نذرانے پیش کئے۔ساڑھے تین بجے ایڈورٹم کے حکم پر سبحان خان کی جانباز رجمنٹ نے سکھ باقی فوجوں پر ہلہ بول دیا اور دست بدست لڑائی کے بعد سنگین کی نوک پر سکھوں کی توپ پر قبضہ کر لیا جس کے بعد سکھ سپاہی شکست کھا کر بھاگ نکلے۔انگریز اور مسلمان مجاہد برق رفتاری سے چناب سے چار کوس کے فاصلہ پر نمبر کے مقام پر پہنچ گئے اور سکھوں کا پڑاؤ ان کا تمام آتشیں اسلحہ اور خیمے کے ذخائر فاتحین کے ہاتھ لگے۔اس طرح سندھ اور چناب کے درمیان اور چناب اور ستلج کے درمیان کا پورا علاقہ مکمل طور ㄓ کام برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی イギ پر جہادیوں کی یورش سے سکھوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔(تاریخ پنجاب صفحہ ۱۰۲۴) ” چوتھی اور آخری مگر طویل لڑائی ملتان کے قریب کیم جولائی ۱۸۴۸ سے شروع ہوئی اور بالآخر جنوری ۱۸۴۹ء کو ملتان فتح ہو گیا۔یہ لڑائی انگریز اور مسلمان سپاہیوں نے اپنی بے مثال جرات و بسالت سے جیتی۔اس میں سبحان خان کی رجمنٹ اور شیخ امام الدین کے چار ہزار سپاہیوں نے بھی حصہ لیا اور نواب بہاولپور کے لشکر جرار نے بھی ” میدانِ جہاؤ میں خوب داد شجاعت دی۔مورخ پنجاب خان بہادر شمس العلماء سید محمد لطیف فیلو پنجاب یونیورسٹی و ممبر اشیاٹک سوسائیٹی آف بنگال نے اپنی شہرہ آفاق کتاب THE HISTORY OF PUNJAB میں بڑی شرح وبسط سے لکھا ہے کہ اس لڑائی میں ملک فتح خاں ٹوانہ نے نہایت بہادری سے لڑتے لڑتے جان دے دی نیز بتایا ہے کہ لارڈ ڈلہوزی اپنے پورے وسائل کے ساتھ انگریزوں کی مدد کرنے کے صلہ میں غازی اعظم نواب بہاول خان کو ایک لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ عطا فر مایا نیز ہر ماہ اپنی فوج کو میدان میں رکھنے کے لئے ایک لاکھ روپیہ کے عطیہ کی منظوری بھی مرحمت فرمائی۔( ترجمه از تاریخ پنجاب صفحه ۱۰۳۴۰۔ناشر تخلیقات لا ہور نومبر ۱۹۹۴) نامور مورخ آگے چل کر رقمطراز ہیں: نواب بہاول خاں نے ۴۸ - ۱۸۴۷ میں ملتان کے محاصرہ کے دوران حکومت برطانیہ کو نہایت شاندار خدمات بہم پہنچا ئیں لہذا اسے سبنرل کوٹ اور بھونگ کے اضلاع کے علاوہ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا تا حیات وظیفہ بھی عطا کیا گیا۔وہ انگریزوں کا سچا دوست تھا اور کافی عرصہ پہلے اسی حکومت کے ساتھ اس نے اتحاد قائم کر لیا تھا جس کی رو سے اپنی خود مختاری حاصل ہونے کے باوجود ) اس نے حکومت برطانیہ کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا 11- ( ایضا ترجمه صفحه (۱۱۶) ریاست بہاولپور تقسیم ہند تک برطانوی حکومت کی وفاداری میں ضرب المثل رہی }