برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 3
سمسم CHOUDHRY M۔M TAHIR & AZHAR 1470 - BLOOR STE 507 MISSISSAUGA ONT LUX IR6 CANADA سس wwwwwwwwww فصل 1 וי www L برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی مسلمان افواج کے سکھوں سے مثالی معر کے ۱۸۰۹ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب (۱۳ نومبر ۱۷۸۰ء۔۲۷ / جون ۱۸۳۹ء) نے حکمران ہوتے ہی انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر کے نہایت گہرے دوستانہ تعلقات و روابط قائم کر لئے۔انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سکھوں کی منتشر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ایک متحدہ سلطنت کی شکل دے دی پھر اپنی بہترین حکمت عملی سے ملتان ، کشمیر ++ اور افغانستان حکومت سے جنگ کر کے ۶ رمئی ۱۸۳۴ء کو پشاور پر بھی قبضہ کر لیا۔یہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ولادت سے چند ماہ قبل کی بات ہے۔مہاراجہ نے پشاور پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد نہ صرف پورے صوبہ سرحد بلکہ افغانستان کے شہر قندھار تک کو بھی زیر نگیں کر لیا۔مہاراجہ کے حسن سلوک نے مسلم و غیر مسلم رعایا دونوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور پنجاب دسرحد کی سرزمین امن کا گہوارہ اور ماڈی طور پر بہشت بریں کا منظر پیش کرنے لگی۔مہاراجہ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی اور مسلمانوں کے خلاف متعدد حاذ کھول دئے اور دہشتناک لڑائیوں کا باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کر دیا جس سے دونوں صوبوں میں مسلمانوں کے خلاف سخت ابتری اور دہشت پھیل گئی جس پر انگریزوں اور مسلم سپاہ نے سکھ گردی کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تین چار سال کی مسلسل جانفشانیوں اور قربانیوں سے سکھ حکومت کے پرخچے اڑا دئے۔اس سلسلہ میں پہلا اہم معرکہ ۱۸۳۵ء میں فیروز پور سے میں میل جنوب مشرق کی جانب مد کے مقام پر ہوا جس میں انگریزی اور مسلم سپاہیوں نے سکھوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے ۲۸ جنوری ۱۸۴۶ء کو / انگریزوں سے صلح کا معاہدہ کر لیا۔محمد