برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 27
وو ۵۰ دوسرے سے بڑھ کر تحفظ ختم نبوت کے کارنامے بھی انجام دیے۔چنانچہ اوّل الذکر نے مناظر ۵۱ اس شخص نے اپنے فیصلہ میں قرآنی آیت و من يطع الله والرسول کا یہ کہ کر کھلا اور احسن گیلانی اور دوسرے دیوبندی مولویوں کو بڑے بڑے اعلیٰ مراتب بخشے اور الیاس برنی سے بھونڈا مذاق اُڑایا کہ اس سے لازم آئے گا کہ نبوت کسی چیز ہے جو اتباع سنت اور ریاضت قادیانی مذہب کے نام پر کتاب شائع کرائی جسے مخالفین احمدیت انسائیکلو پیڈیا کا درجہ دیتے سے حاصل ہو سکتی ہے (فیصلہ مقدمہ بہاولپور صفحہ ۶۶-۲۷ ) کیا اس بدسگال اور دریدہ دہن ہیں اور اس کی خوشہ چینی ہی ہر مکفر ملا کی معلومات کا سرمایہ ہے۔گستاخ قرآن و رسول کو کتاب اللہ کا یہ فرمان معلوم نہ تھا کہ بیٹے اور بیٹی کی پیدائش خالص ثانی الذکر (ریاست بہاولپور ) کا یہ سیاہ کارنامہ ہمیشہ اس کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ بنا خدا کی موهبت ہے (الشوری: ۵۰) مگر کیا شادی کئے بغیر مل سکتی ہے؟ حق یہ ہے کہ بقول رہے گا کہ اس کی نام نہاد اسلامی عدالت نے لاکھوں کروڑوں احمدیوں کو مرتد قرار دیا۔رب خاتم النبین کی معجز نمائی یہ بھی رب خاتم انہین کی معجز نمائی کا عبرت انگیز کرشمہ ہے کہ مقدمہ بہاولپور کی کارروائی کی اکتوبر ۱۹۸۸ء میں دیوبندی اسلامیہ فاؤنڈیشن ا۔ڈیوس روڈ لاہور نے شائع کی اور اس کا دیا چہ اس کے رکن میر عبد الماجد صاحب سید نے ۳ محرم ۱۴۰۹ ء مطابق ۱۷ راگست ۱۹۸۸ء کو لکھا جس میں انہوں نے آمر مطلق ضیاء الحق کو اس کے بدنام زمانہ اینٹی احمد یہ آرڈینینس پر زبر دست تحسین ادا کیا اور اسے مرد مجاہد اور محب رسول کے خطاب سے نوازا اور یہاں تک لکھا کہ اس کا یہ کارنامہ تکفیر ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا لیکن اسی دن ابھی اس دیباچہ کی سیاہی خشک نہیں ہوئی ہو گی کہ فرعون وقت اپنے بہت سے جرنیلوں سمیت فضائی حادثہ میں ہلاک ہو کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔> } اک نشاں کافی ہے گرول میں ہو خوف کردگار اور حیرت انگیز تصرفت الہی یہ بھی ہوا کہ یہ قہری تجلی سرزمین بہاولپور میں ظاہر ہوئی جہاں ۵۳ سال قبل سے فروری ۱۹۳۵ء کو ڈسٹرکٹ جج بہاولپور محمد اکبر خاں بی اے ایل ایل بی نے احمدیوں کے ارتداد کا فیصلہ صادر کیا تھا اور اسکی بنیاد منکر حدیث اور محمد زمان اور زندیق دوراں غلام احمد پرویز کی کتاب میکانکی اسلام پر رکھی۔(مقدمہ بہاولپور جلد اول صفحه ۵۴) اليوم f جنرل ضیاء فاسق و فاجر اور زانی و شرابی ارکانِ اسمبلی ۱۹۷۴ء کی طرح ۱۹۳۵ء میں بہاولپور کی کرسی پر بیٹھنے والا ڈسٹرکٹ جج اپنے غیر اسلامی عقائد کی رو سے عملاً فریق مقدمہ دیو بند یہ تھا جواز رُوئے اخلاق و قانون احمدیت کے خلاف کیس سنے کا ہرگز مجاز نہیں تھا۔سید نا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: مفت میں ملزم خدا کے مت بنو اے منکرو A خدا کا ہے ، نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار یہ فتوحات نمایاں یہ تواتر کے نشاں کیا یہ ممکن ہے بشر سے کیا یہ مکاروں کے کاروبار منس۔** سسة۔۔۔۔