برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 28
:: E فصل ٩ ۵۴ : کتاب اللہ کی مستند آفاقی تاریخ اور جماعت احمدیہ سیکھا Or دوسرا اس میں کچھ غلطی کرے۔۔۔۔جوشخص اسلام کے عقائد کے منافی۔اسلام کی تائید کیا کرے گا ،، ہے وہ البدر ۳ ر ا پریل ۱۹۰۳ ، صفحه ۸۵) قرآن مجید کے تاریخی اصول کو مشعل راہ بنانے کے بعد اب دور حاضر کے مسلم زعماء اور ے۔ائی منکرین، مغربی صحافت کی جماعت احمدیہ کی نسبت آراء کا مطالعہ کریں۔”ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان آباد ہیں کیا ان کی طرف سے ایک بھی قابل ذکر تبلیغی مشن مغربی ممالک میں کام کر رہا ہے۔گھر بیٹھ کر احمد یوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء، دیوبندی ، فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بھی تبلیغ واشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں۔کیا ہندوستان میں ایسے متمول مسلمان نہیں جو چا ہیں تو با دقت ایک ایک کوئی عاشق رسولِ عربی ایک لمحہ کے لئے بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ تاریخ عالم ظفر الملت والدین مولانا ظفر علی خاں کا مستند ترین ماخذ قرآن عظیم ہے جس کا نقطہ شعشہ تک ہمیشہ کیلئے محفوظ ہے اور قیامت تک کے تمام علوم و اکتشافات کا بحر بیکراں ہے۔خود آنحضرت ﷺ کی شرمندی میں یہ ارشاد موجود ہے کہ اولین و آخرین کے واقعات اس میں موجود ہیں اس لئے مستقبل میں مسلمانوں کو اس کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے انیسویں صدی کے آٹھویں عشرہ میں جبکہ آپ کو بیعت لینے اور جماعت بنانے کا کوئی حکم نہ تھا، اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ چہارم (مطبوعہ ۱۸۸۴ء) میں تاریخ کے اس راہ نما اصول کی طرف دنیا بھر کے وقائع نگاروں کو توجہ دلائی کہ: اس عالم کا مورخ اور واقعہ نگار بجز خدا کی کلام کے اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کے مضامین صرف قیاسی انکلوں میں محدود نہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے ساتھ بہ حیثیت ایک مورخ صادق عالم ثانی کی خبر دیتا ہے اور چشم دید ماجرا بیان و (صفحه ۳۸۹) کرتا ہے۔“ ہمارا فرض ہے کہ قرآن عظیم ہی کے دربار سے یہ معلوم کریں کہ عہد حاضر میں کون سی جماعت مقبول درگاہ الہی ہے اور کون ہے جو غیروں کا ایجنٹ اور کلمہ گوؤں سے کھلا مذاق کر رہا ہے۔اللہ جل شانہ کا فیصلہ یہ ہے کہ انما يتقبل الله من المتقين (مائده : ۲۸) یعنی مشن کا خرچ اپنی گرو سے دے سکتے ہیں۔یہ سب کچھ ہے لیکن افسوس عزیمت کا فقدان ہے۔فضول جھگڑوں میں وقت ضائع کرنا اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا آجکل مسلمانوں کا شعار ہے۔اللہ تعالیٰ اس بے راہ قوم پر رحم کرے اخبار زمیندار دسمبر ۱۹۲۶ء بحواله زجاجه صفحه ۱۶۰ مولفه سید محمد طفیل شاه صاحبه اشاعت اپریل ۱۹۲۹ء) درگاہ الہی میں متقیوں کے اعمال اور انکی خدمات ہی کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے۔خود حضرت مفکر احرار چوہدری افضل حق بانی سلسلہ احمدیہ کو ۱۹۰۳ء میں بذریعہ رویا خبر دی گئی: اسلامی خدمات کسی دوسرے سے اللہ تعالیٰ لینا ہی نہیں چاہتا۔شاید 35 کیا آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا۔۔۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ www۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔• www wwwwwwwww بسس wwwwwwwwwww