برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 26 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 26

MA سسسسسسبتبسبسسبسبب میں ریاست کے والی نواب محمد بہاول خاں ثالث نے اپنے معتمد خاص سید غلام مصطفی شاہ کے ذریعہ گورنر جنرل ہند لارڈ ولیم بیٹنگ سے بہاولپور کی پدرانہ شفقت کے ساتھ سر پرستی کی عاجزانه درخواست کی جس پر گورنر جنرل نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو بہاولپور سٹیٹ کے خلاف مزید دست درازی سے روک دیا۔اس سال گورنمنٹ انگلشیہ اور ریاست کا معاہدہ دوستی کے طے مه وم حمایت میں ریاستی فوج بھی حرکت میں آگئی اور ان تمام افراد کے خلاف جو بلا واسطہ یا بالواسطہ غدر سے ہمدردی رکھتے تھے ، ریاست کی طرف سے کارروائی کرنے سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔5 ریاست بہاولپور کے یہ سب حالات جناب مسعود حسن شہاب کی کتاب ”بہاولپور کی سیاسی تاریخ " سے صفحہ ۲۱ تا ۲۸ سے ماخوذ ہیں۔یہ کتاب پہلی بارے۱۹۷۷ء میں مکتبہ الہام انکشاف بھی کیا ہے کہ: پایا یہ معاہدہ ۱۶ دفعات پر مشتمل تھا۔گورنمنٹ انگلشیہ کی نمائندگی لدھیانہ کے پولیٹیکل افسر بہاولپور نے شائع کی تھی۔مؤلف کتاب جناب مسعود حسن شہاب نے کتاب صفحہ ۲۷۔۲۸ پر یہ کیپٹن سی ایم ویڈ نے کی۔معاہدہ کی پہلی دفعہ یہ تھی کہ ” دوستی و اتحاد ہمیشہ کے لئے فیما بین آنریبل ایسٹ انڈیا کمپنی ونواب محمد بہاول خان اور اس کے ورثاء جانشینوں کے قائم رہے گا۔“ یہ معاہدہ بہاولپور شہر میں ۲۲ فروری ۱۸۳۳ء کو قرار پایا اور اس پر ڈبلیوسی بٹنگ نے دستخط کئے اس دائی معاہدہ کے بعد ریاست بہاولپور نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے اکتو بر ۱۸۳۳ء میں ایک اور معاہدہ کیا جس میں فریقین نے اقرار کیا کہ ہر ایک کے دوست دشمن دوسرے فریق کے دوست دشمن تصور کئے جائیں گے۔سرکار انگریزی ریاست کی محافظ ہوگی اور نواب بہاول خاب اور اس کے جانشین ہمیشہ سرکار انگریزی کے تابع رہیں گے اور کسی اور رئیس یا حکومت سے تعلق نہیں رکھیں گے۔سرکار بہاولپور بوقت ضرورت سرکار انگریزی کی مدد کرتی رہے گی۔اس دوسرے عہد نامہ پر لیفٹنٹ میکسن نے سرکار انگریز کی جانب سے اور منشی چوکس رائے نے سرکار بہاولپور کی طرف سے دستخط کئے۔مارچ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب انگریزی عملداری میں شامل ہوا تو نواب بہاولپور نے مولانا امام بخش بہاولپوری۔۔۔مولانا غلام رسول چنڑ کے عمزاد تھے انہیں یہ بھی دکھ تھا کہ ریاست میں مجاہدین آزادی کو ناحق کچلا جا رہا ہے چنانچہ انہوں نے اس صورت حال کے خلاف نواب صاحب کو کئی خط لکھے اور ان کی نگریز پرستی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ وہ انگریز کے خلاف قدم اٹھانے میں مجاہدین اسلام کا ساتھ دیں۔نواب صاحب کو مولا نا امام بخش کی جرات ناگوار گزری اور انہوں نے کسی سپاہی کو بھیج کر انہیں شہید کر دیا۔۲۲ دسمبر ۱۸۵۷ء کو جب انقلابی تحریک ناکام ہوئی اور انگریزی حکومت دہلی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس خوشی میں ریاست کے صدر مقامات پر چراغاں کیا گیا۔بہر حال انگریز پرستی کا یہ مظاہرہ نواب صاحب کی سیاسی ضرورت کے تابع تھا اور وہ اُسی کے لئے مجبور تھے" فرزند برطانیہ کا عملی ثبوت دیتے ہوئے پوری ریاست میں مثالی جشن چراغاں کیا۔فروری دونوں مسلم ریاستوں کی شان تحفظ ختم نبوت" ۱۸۴۴ء میں ریاست بہاولپور کی مشرقی سرحد کی حد بندی ہوئی تو نواب صاحب نے سرکار انگریزی کی خواہش پر علاقہ وٹو ان جس سے ریاست کو مالیہ کی صورت میں ۲۵ ہزار سالانہ آمدنی ہوتی تھی ، کمال فراخدلی سے حکومت انگلشیہ کی خدمت میں بلا معاوضہ پیش فرما دیا۔غدر ۱۸۵۷ء میں نواب بہاولپور نے سرکار انگریزی کی نہ صرف مالی امداد کی بلکہ انگریزوں کی یہاں یہ بتانا دلچسپی میں اضافہ کا موجب ہو گا کہ ریاست حیدر آباد اور ریاست بہاولپور“ دونوں نے ہمیشہ نہ صرف انگریزوں کی کاسہ لیسی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر انگریز پرستی کا مظاہرہ کرتی رہیں بلکہ احراری ملا کی اصطلاح کے مطابق انہوں نے ہمیشہ ایک