برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 25
ما السلام ۴۷ فصل ۸ A میں نظام نے کرناٹک کی دیوانی سات لاکھ روپے سالانہ کے عوض انگریزوں کو دے دی جنہوں نے عہد کیا کہ وہ اس کے لئے فوج مہیا کریں گے جس کا خرچ ریاست برداشت کرے گی مگر برطانوی استعمار کی پاسبان اور محافظ ختم نبوت، مسلم ریاستیں ریاست اسے انگریزوں کے دوستوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکے گی۔۱۷۹۸ء میں نظام کے خرچ پر انگریزوں کی امدادی فوج (SUBSIDIARY FORCE) مستقل کر دی گئی اور فوج اس مرحلہ پر تاریخ کا ایک طالب علم یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ انگریزی سلطنت تو الحاق اور حیدرآباد کے کارخانوں کا تیار شدہ مہلک اسلحہ مدتوں ایسٹ انڈیا کمپنی نے شیر اسلام ٹیپو پنجاب ۱۸۴۹ء کے نتیجہ میں ۱۸۶۲ ء تک پورے برصغیر کے طول و عرض میں پوری شان وشوکت سلطان کے خلاف استعمال کیا۔سلطان شہید کر دئے گئے اور میسور کی مفتوحہ ریاست کمپنی اور سے مستحکم ہو چکی تھی جیسا کہ ڈکشنری آف پشتو کے انگریز مؤلف نے دنیا چہ میں لکھا۔اس نظام نے ہتھیا لی۔اس بندر بانٹ کے بعد دونوں میں ایک اور معاہدہ طے پایا جس کے مطابق۔صورت میں انگریز جو اپنے مدبر دماغ میں صدیوں سے شہرت رکھتے ہیں، ۱۸۶۹ء میں کسی نظام نے میسور کا اکثر علاقہ کمپنی کے حضور تحفہ پیش کر دیا اور عہد کیا کہ وہ کمپنی کی اجازت کے خلوت نشین درویش اور گمنام شخص کو نبی بنانے کے لئے کھڑا کرنے کی حماقت کیسے کر سکتے تھے بغیر کسی دوسری طاقت سے کوئی تعلقات قائم نہیں کریں گے۔۱۸۵۳ء میں نظام نے برار، عثمان خصوصاً جبکہ وہ خوب جانتے تھے کہ مسلمان تیرہ سو سال سے ہر مدعی نبوت کا سرقلم کرتے آرہے آباد ، نورنگ اور را نخور دو آب بھی برطانیہ کے حوالے کر دئے تا انگریزی پانچ ہزار پیادہ ، ہیں اور نبی کا لفظ ہی اُن کے لئے ہمیشہ نا قابل برداشت رہا ہے حالانکہ خود آنحضرت ﷺ نے دو ہزار گھوڑ سوار اور توپ خانے کے چار دستوں پر مشتمل زبر دست فوج حیدرآباد میں رکھ سکیں یہ فوج براہ راست کمپنی کے ماتحت تھی اور کمپنی انگریز ریذیڈنٹ کے اشاروں پر چلتی تھی۔مسیح محمدی کو ایک بار نہیں چار بار نبی کے نام سے موسوم کیا ہے ) سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان میں انگریزوں کی وسیع مملکت کو اپنے اقتدار میں اضافہ ندر ۱۸۵۷ء کے فرو کرنے میں نظام حیدر آباد نے ایسی شاندار اور مجاہدانہ خدمات کے لئے یقینا ان مسلم ریاستوں کی ضرورت تھی جو ہر وقت اپنے جانباز سپاہیوں، گرانقدر انجام دیں کہ اس کے صلہ میں عثمان آباد اور را بجور دو آب کے اضلاع واپس نظام کو عطا خزانوں اور ہر نوع کی خدمات بجالانے کے لئے ہر لمحہ وقف رہیں۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ حیدر آباد دکن اور بہاولپور جیسی دو کٹھ پتلی مسلم ریاستیں غدر ۱۸۵۷ء سے مدتوں قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانثار خادم کی حیثیت سے شہرت پا چکی تھیں اور انگریزوں کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ثر قمر کردئے گئے کچھ کچھ : (ہندوستان کے قدیم شہروں کی تاریخ ، صفحہ ۱۳۳ تا ۱۳۷ تلخیص تالیف جناب وسیم احمد سعید۔پبلشر فیکٹ تھیں اور خود کاشتہ پودا ہونے کا یہ اعزاز انہوں نے تقسیم ہند ( ۱۹۴۷ء ) تک برابر قائم رکھا۔ریاست بہاولپور حیدر آباد دکن پبلیکیشنز لاہور۔تاریخ اشاعت درج نہیں ) پنجاب میں مسلمانوں کی اس سب سے بڑی ریاست کے انگریز سے گہرے روابط کا حیدر آباد دکن نے ایسٹ انغمہ یا کمپنی کے ساتھ ۱۷۶۶ء میں باقاعدہ معاہد ہ کیا۔۱۷۶۸ء آغاز ۱۸۰۸ء میں برطانوی سفیر کابل آنریبل مان اسٹوارٹ انفسٹن کے ذریعہ ہوا۔۱۸۲۵ء۔س }