برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 24 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 24

2۔سلام سلام i (منٹو مور لے اصلاحات (۱۹۰۹ ء ) میں جداگانہ انتخاب کا اصول قبول اور عملاً نافذ کر دیا گیا۔" آگے لکھتے ہیں : قیام لیگ سے پانچ سال تک سلطنت برطانیہ کی وفاداری مسلمانوں کی سیاسی شریعت کا کلمہ طیبہ بن گئی تھی۔پہلے سکرٹری ، مولوی مشتاق حسین نواب وقار الملک) جیسے متشرع بزرگ صاف صاف کہتے تھے کہ ہندوستان میں ہماری تعداد صرف ایک شمس ہے۔خدانخواستہ انگریزی حکومت نہ رہے تو ہمیں ہندوؤں کا محکوم ہو کر رہنا پڑے گا اور ہماری جان ، ہمارا مال ، ہماری آبرو، ہمارا مذہب سب خطرے میں ہوگا اور کوئی تدبیران خطروں سے محفوظ رہنے کی ہندوستان کے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے تو وہ یہی ہے کہ انگریزی حکومت ہندوستان میں قائم رہے۔“ تها " تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت صفحه ۵۲۹۲۵۲۷ ناشر انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی اشاعت دوم ۱۹۸۸ء) نواب وقار الملک جیسے متشرع بزرگ برٹش انڈیا کے مسلم لیڈر کی دور بینی ، فراست اور معاملہ نہی پر ۱۹۴۷ء کے خونچکاں واقعات نے مہر تصدیق ثبت کر دی جبکہ نہرو گورنمنٹ کی سر پرستی میں لاکھوں مسلمان شہید اور لاتعداد بے خانماں ہو کر ہجرت پاکستان پر مجبور ہو گئے۔فرزندان اسلام کے اس قتل عام کو نہ ۱۸۵۷ء کے غدر سے کوئی نسبت ہے نہ مسلم پین کے سقوط کو ۱۹۴۷ء میں خونِ مسلم کی ارزانی کے دردناک واقعات سے کوئی نسبت ہے۔بلا مبالغہ تقسیم ملک کے چند ماہ میں کلمہ گو مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں نے جتنی تعداد میں جام شہادت نوش کیا انگریزی عہد حکومت میں اس کا عشر عشیر بھی ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔انگریزی اقتدار کے خاتمہ البلاد کے ساتھ ہی اگر مملکت خداداد پاکستان معرض وجود میں نہ آتی تو پورا بر صغیر اسی طرح مسلمانوں • رس سے خالی ہو جاتا جس طرح ۲ فروری ۱۴۹۲ء کے بعد غرناطہ پر بد بخت اور ظالم عیسائی بادشاہ فرڈینینڈ کے تسلط کے نتیجہ میں ہوا۔: پہلے پہل پہل اترا جہاں اسلامیوں کا کارواں اسلام کا اس ملک أف مٹ گیا نام و نشاں زمین قرطبه تہذیب مغرب چھا گئی اسپین کی سلطنت تثلیث دل برما گئی باطل کے قابو آ گئی اے زمین قرطبہ ( سید احسن اسماعیل گوجرہ)