برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 169

برکاتِ خلافت — Page 152

برکات خلافت 152 نہیں ہے اس قسم کے انسانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا أُولَئِكَ ۚ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ۔(الاعراف:۱۸۰) ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان کو کام میں نہیں لاتے۔ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے نفع نہیں اٹھاتے۔یہ تو سب کچھ ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس عقل انسانی نہیں بلکہ حیوانی عقل ہے۔یہ خوف سے بھاگ تو جاتے ہیں لیکن اپنے آئندہ کے بچاؤ کے لئے کوئی صورت نہیں نکال سکتے۔یعنی یہ کسی خوف اور ڈر کے وقت تو خدا تعالیٰ کے حضور میں گر پڑتے ہیں اور اس دکھ سے محفوظ ہو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتے بلکہ جب کبھی ان پر مصیبت پڑتی ہے اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔چوتھا درجہ : جب اس سے زیادہ احساس پیدا ہوتا ہے تو انسان ایک اور درجہ میں ہوتا ہے اور یہ درمیانی درجہ ہے کیونکہ تین درجے اس سے نیچے ہیں اور تین ہی اوپر ہیں۔اس درجہ میں انسان کو ایک حد تک احساس پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سب کام سمجھ اور ہوش سے کرتا ہے مگر کبھی کبھی اس پر شیطان بھی غلبہ کر لیتا ہے۔یعنی کبھی اسے بدی اپنی طرف کھینچ لے جاتی اور کبھی نیکی۔ہاں بدی کا حملہ اس پر بہت کم کارگر ہوتا ہے۔کیونکہ اس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔آدمی کی ایسی حالت کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَئِفٌ مِّنَ الشَّيْطَنِ تَذَكَّرُوْا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ۔(الاعراف:۲۰۲) کبھی کبھی ایسے لوگوں کو شیطان اپنی طرف بھی کھینچتا ہے