برکاتِ خلافت — Page 151
برکات خلافت 151 سے بچنے کی طاقت نہیں ہوتی۔لاجونتی کے پتے ہاتھ لگانے سے سکڑ تو جاتے ہیں لیکن ان میں یہ طاقت نہیں کہ بھاگ کر اپنے آپ کو بچالیا کریں۔اسی طرح ایک انسان اس قسم کا ہوتا ہے کہ اس کی کچھ روحانی حس تو باقی ہوتی ہے مگر وہ کسی حملہ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا کیونکہ اس کی حس بہت خفیف سی ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں ایسے لوگوں کی طرف اس آیت میں اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَ تَرْهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ۔(الاعراف: ۱۹۹ ) یعنی یہ مخالف لوگ ایسے ہیں کہ ان کو تو ہدایت کی طرف بلاتا ہے لیکن وہ سنتے نہیں ہیں تجھے وہ دیکھتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔سمع کے اصل معنے سننے کے ہیں مگر سننے کی غرض ماننا ہی ہوتی ہے اس لئے لا يَسْمَعُوا سے مراد یہی ہے کہ وہ مان نہیں سکتے اور ان میں ماننے کی طاقت ہی نہیں ہے۔یہ وہی لوگ ہیں کہ ان میں حس تو ہے مگر بچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ان کی آنکھیں ہوتی ہیں مگر یہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔تیسرا درجہ : اس سے اوپر اور درجہ ہے اور وہ حیوانی درجہ ہے اس میں انسان حیوان کی طرح ہوتا ہے یعنی نباتات سے زیادہ اس میں حس ہوتی ہے اس حالت میں اسے آواز سناؤ گے تو سن لے گا مگر مطلب نہیں سمجھے گا۔اگر اسے دکھ دینے لگو گے تو بھاگ جائے گا مگر اپنے بچنے کے لئے ایسے ذرائع مہیا نہیں کر سکے گا جن کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اس قسم کے ڈر سے محفوظ ہو جائے جیسا کہ انسان کو اگر کوئی چیز معضلگتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کے دور کرنے کے ذرائع سوچتا رہتا ہے۔لیکن حیوان میں ایجاد اور ترقی کا مادہ