برکاتِ خلافت — Page 153
برکات خلافت 153 مگر وہ جھٹ ہوش میں آجاتے ہیں یہ ایسا انسانی درجہ ہے جس کے ساتھ نسیان لگا ہوا ہے اور دوسرے لفظوں میں اسے نفس لوامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کبھی ان پر شیطان حملہ کرتا ہے تو وہ فورا اللہ کی پناہ میں آ جاتے ہیں اور یہی متقیوں کا کام ہے۔پانچواں درجہ : پھر انسان اور ترقی کرتا ہے اور ترقی کرتا کرتا ملک بن جاتا ہے پھر وہ ایسا ہوشیار ہو جاتا ہے کہ کبھی بھی شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا۔اس کی معرفت الہی ایسی ترقی کر جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر وہ عمل کرتا ہے اور جس طرح ملائکہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ کے ماتحت کام کرتے ہیں اسی طرح یہ انسان بھی خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آسکتی۔اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ O الَّذِيْنَ يُؤْفُوْنَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنْقُضُونَ الْمِيْثَاق O وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَا أَمَرَا اللَّهُ بِة أَنْ يُوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْءَ الْحِسَابِ وَ الَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً وَّيَـدْ رَءُ وْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّار جَنَّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلئِكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلْمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ـ (الرعد:۲۰ تا ۲۵)