برگِ سبز — Page 46
برگ سبز ذہن میں تو حضرت امام حسین کے وہ الفاظ آرہے ہیں جو کربلا میں رو کے جانے پر آپ نے فرمائے تھے۔آپ نے اپنے مخالفوں کو فرمایا تھا کہ : نمبر ا۔مجھے یزید کے پاس جانے دو۔نمبر ۲۔مجھے واپس مکہ جانے دو۔نمبر ۳۔مجھے سرحد پر جانے دو میں وہاں جہاد میں شامل ہو جاؤں گا۔یہ باتیں شیعہ اور سنی مسلمات میں سے ہیں۔ان سے تو کہیں بھی یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ آپ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے گئے تھے۔آج کل ہمیں ذاکر صاحبان جو باتیں بتاتے ہیں وہ تاریخی حقائق کے خلاف ہیں۔دوسری الجھن خاکسار نے یہ پیش کی کہ شیعہ لٹریچر اور ذاکر صاحبان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ سے حضرت امام حسین کو ہزاروں کی تعداد میں خطوط ملے تھے ، جن میں حضرت امام کو وہاں بلانے کی دعوت دی تھی اور ان کی تائید و تصدیق کا وعدہ کیا تھا۔مولوی صاحب نے اس امر کو تسلیم کیا بلکہ زیادہ مدلل طریق پر بتایا کہ واقعی ہزاروں لوگوں نے انہیں دعوت دی تھی۔خاکسار کے پوچھنے پر انہوں نے کوفہ کے باسیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ کوفہ کے وہ شیعہ جنہوں نے حضرت امام معصوم و مظلوم کو دعوت دی تھی انہوں نے ہی آپ کا مقابلہ کیا۔اور آپ کی اتنی مخالفت کی جو حضرت امام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر منتج ہوئی چونکہ وہ کوفیوں کی امداد ، کوفیوں کی تعداد کے متعلق اسی مجلس میں اقرار کر چکے تھے اس لئے انہیں اس بات کا جواب دینے میں کافی دقت ہورہی تھی اور بالآخر انہیں خاموشی سے یہ بات تسلیم کرنی پڑی۔خاکسار نے ان سے یہ بھی دریافت کیا کہ میدان کربلا کے لرزہ خیر واقعات جو آج بھی 46