برگِ سبز — Page 45
برگ سبز سے علماء کو بلایا جاتا اور اس طرح اسلام کے دفاع کا جہاد کیا جاتا اور احمدی مناظروں کی کامیابی اسلام اور مسلمانوں کی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔( خاکسار بیان تو کچھ اور کر رہا تھا مگر ضمنی طور پر یہ بات درمیان میں آگئی ہے) شیعہ احباب سے ملاقات کے بعض واقعات درج کر چکا ہوں۔یہاں ایک اور بات یاد آ گئی جو مفید اور دلچسپ ہونے کی وجہ سے یہاں ذکر کر رہا ہوں۔تنزانیہ (مشرقی افریقہ) میں مبورا ایک مشہور پرانا قصبہ ہے۔حضرت شیخ مبارک احمد صاحب جو پہلے احمدی مبلغ تھے انہوں نے اسی جگہ کو اپنا پہلا مرکز بنا یا تھا۔وہاں محرم کے دنوں میں ایک ذاکر صاحب تشریف لائے۔خاکسار ان سے ملنے گیا ان سے اکثر ملاقات ہوتی رہی۔خاکسار نے ان کی ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت امام حسین علیہ السلام کے متعلق ارشادات بھی پڑھ کر سنائے۔ایک دن خاکسار ان سے ملنے گیا ان کا ایک اور ملاقاتی وہاں بیٹھا تھا اور مولوی صاحب اپنے بعض کارناموں کا ذکر کر رہے تھے۔”ہم کسی کے پیچھے نہیں پڑتے لیکن اگر کوئی جھوٹا ہمارے پیچھے پڑنے کی کوشش کرے تو اسے گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں اپنی بعض تصانیف کا بھی ذکر کیا۔ان کے اس موڈ کو دیکھ کر خاکسار نے عرض کیا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ ایک شیعہ عالم سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔میری بعض الجھنیں ہیں امید ہے آپ ان کو سلجھا سکیں گے۔مولوی صاحب نے بڑی فراخ دلی اور بشاشت سے جواب دینے کا وعدہ کیا۔خاکسار نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ حضرت امام حسین ” کوفہ کیوں تشریف لے گئے تھے؟ مولوی صاحب ذاکروں والی روایتی تقریر کرنے لگے۔خاکسار نے معذرت کرتے ہوئے ان کی قطع کلامی کی اور کہا کہ یہ تقریریں تو میں بہت سن چکا ہوں لیکن میرے 45