برگِ سبز

by Other Authors

Page 44 of 303

برگِ سبز — Page 44

برگ سبز ساتھیوں کو کہا کہ اٹھو اٹھو ہم واپس جارہے ہیں۔ہم شکایت لیکر آئے تھے لیکن ہمیں مجرم سمجھا جارہا ہے۔۔۔پولیس آفیسر اچھے سمجھدار لگتے تھے انہوں نے مولوی صاحب سے بڑی احترام سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں آرام سے تشریف رکھیں۔ہم دونوں فریق کو برابر ایک ہی بات سمجھا رہے ہیں۔جب مولوی صاحب ان کے کہنے پر بیٹھ گئے تو راجہ صاحب ( پولیس آفیسر ) کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ بہت غیرت مند اور بہادر آدمی لگتے ہیں۔کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نہتے اور قانون پسند لوگوں کے سامنے تو بہت بہادری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مگر آپ کی غیرت اور بہادری اس وقت کہاں تھی جب ہندوؤں نے کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے مسلمان عورتوں کو اغوا کر لیا گیا تھا اور مسلمانوں کا ہر لحاظ سے بہت نقصان ہوا تھا۔۔۔مولوی صاحب اس بات کا کیا جواب دیتے۔شکایت کرنے گئے مگر شرمندہ ہوکر واپس آئے۔یاد رہے یہ وہ زمانہ تھا جب احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور تبلیغ سے روکنے اور شعار اسلامی کے استعمال سے منع کرنے کا بد نام زمانہ کالا قانون ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔مخالفت تو ضرور ہوتی تھی مگر انصاف اور قانون کی پابندی نسبتا بہتر تھی۔پنجاب اور دوسرے علاقوں میں تمام لوگ مل جل کر رہتے تھے۔سینکڑوں دیہات ایسے تھے جہاں ایک ہی مسجد میں احمدی اور دوسرے لوگ باری باری نماز با جماعت ادا کرتے تھے۔شادی، بیاہ ، رشتہ داریاں باہم برابر سطح پر تھیں اور یہ بات کبھی ناگوار نہیں ہوتی تھی۔گاؤں کی کسی بچی کی شادی ہوتی تو سب لوگ اسے اپنی بچی سمجھ کر رخصت کرتے۔ایسی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ جب یہ کہا جاتا تھا کہ ہمیں احمدیوں کے عقائد سے اختلاف ضرور ہے مگر یہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ہر وہ دردمند مسلمان جو غیر مسلموں کو ان کے اسلام پر اعتراضات کا جواب دینا چاہتا تھا ، وہ احمدی علم کلام سے استفادہ کرتا تھا۔ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ مسیحیوں یا ہندوؤں کے مناظرہ کیلئے قادیان 44