برگِ سبز

by Other Authors

Page 211 of 303

برگِ سبز — Page 211

برگ سبز اپنے اس مبنی بر حقیقت تجزیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ تحریر کرتے ہیں: یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت جس نے پورے برصغیر کے مذہبی سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان حاصل کیا آخر کیونکر اس نے خود ہی انہیں امور مملکت میں مداخلت کی دعوت دی ؟ اب اس راز سے پردے اٹھ چکے ہیں قرارداد مقاصد کا معاملہ مسلم لیگی حکومت کے ایماء پر اٹھایا گیا تھا۔۔۔اور جب مذہبی سیاستدانوں نے یہ دیکھا کہ غیر نمائندہ اور کمزور حکمران ان کے محتاج ہیں تو انہوں نے مذہبی سیاست کا ہتھیار پوری قوت سے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس میں وہ یقیناً کامیاب رہے۔“ اس اقتباس میں مذہبی سیاست دان کی اصطلاح اور ان کی کامیابی کا اڈ عا قابل غور ہے۔علماء اور مولوی صاحبان جب موجودہ سیاست جو دھوکے،فریب ، جھوٹ اور غلط بیانیوں سے بری طرح ملوث ہے، میں مصروف ہو جا ئیں تو انہیں مذہبی سیاست دان ہی کہنا چاہیئے وہ اپنے مذہب کو سیاسی مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور ان کے سامنے مذہب کی خدمت کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ مذہب کو سیاسی مفاد اور مطلب برآری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔مذہبی سیاست دانوں کی کامیابی کا بھی یقیناً یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور بہتری کے لئے تو نہ انہوں نے کوئی کوشش کی اور نہ ہی یہ ان کے مقاصد میں شامل تھا۔بلکہ وہ تو سرے سے قیام پاکستان کے ہی مخالف تھے اور اپنے اس موقف پر کسی ندامت کے اظہار کی انہوں نے کبھی ضرورت نہیں سمجھی۔بلکہ ان کا یہ موقف بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کی غلطی میں شامل نہیں تھے۔لہذا مذ ہبی سیاستدانوں کی کامیابی یہی ہوسکتی ہے کہ اپنے مفادات کے حصول میں وہ کامیاب رہے۔قطع نظر اس کے کہ پاکستان اقتصادی ،معاشی بلکہ سیاسی لحاظ 211