براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 81
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 81 ہے۔دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیہ کے طور پر لکھا ہے یا کسی خاص طریق کی تعین نہیں کی۔اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پید ا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔۔۔۔" آپ اس قرآنی تعلیم کا توریت اور انجیل سے یوں موازنہ کرتے ہیں:۔افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے۔اور انجیل میں صرف چند اخلاق بیان کئے گئے ہیں اور وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں۔اور یا در ہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں ہے بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے کیونکہ ہر ایک امر جو قانونِ کلی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر کیسا ہی اپنے مفہوم کی رو سے نیک ہو بد استعمال کی رو سے نہایت بد اور مکر وہ ہو جاتا ہے۔” 8" مولوی چراغ علی قرآنی تعلیم کو با قاعدہ اور مکمل قوائد نہیں سمجھتے مگر جناب مرزا صاحب کس زور اور تحدی سے رقمطراز ہیں:۔اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے کہ جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو تیار ہیں۔" 2 اور یہ اس کتاب " براہین احمدیہ " کا حوالہ ہے جس کی موجب تخفیف کے طور پر مولوی عبد الحق اور موصوف کے اندھا دھند مقلدین نے ایک کچی بات کو لے کر رائی کا پہاڑ بنا دیا اور حضرت مرزا صاحب کو مولوی چراغ علی سے براہین احمدیہ کی تصنیف میں مضامین سے مدد لینے کی بات لکھ دی لیکن:۔۔۔۔۔مولوی چراغ علی نے اس مکتب کی بنیاد رکھی جس کو قانونی جدیدیت Legal Modernism کا نام دیا جاتا ہے۔(تفصیلات کے لئے دیکھئے - 1883) The proposed legal political and social Reforms in the Ottomon Empire 1808) or Traditions of Islam, Guillaume, Oxford 1924) اگر انسانی موقف تبدیلی پذیر ہے اور واقعی تبدیل ہوتارہتا ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ تشریعی اور قانونی عمل بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوں۔اس پہلو کے بارے میں مزید تفصیل ملاحظہ ہو راقم الحروف کے مضمون مطبوعہ جریدہ نمبر 33 (2005ء) کراچی یونیورسٹی لیکن۔۔۔۔اس تحریک کا یہ عصر۔۔ایک مستقل روایت نہ بن سکا۔۔۔شاید اس کا ایک سبب یہ تھا کہ قریبی ماضی کے آثار ابھی طاقتور تھے اور ذہنی تبدیلی کے ساتھ سماجی تبدیلیوں کی رفتار سست تر تھی۔10 یادر ہے یہ وہی مولوی چراغ علی ہیں جو قرآن پاک کے قوانین کو الکل بیچو بتاتے ہیں۔(نعوذ باللہ ) مولوی چراغ علی اس روش میں سرسید کے پیر و خاص تھے اور سرسید انگریز کی تہذ یہی لڑائی میں انگریز کے کمانڈر تھے۔سرسید کے اس رویے کے بارے میں سجاد باقر رضوی اپنے ایک مضمون“ سرسید، اکبر اور ہمارے تہذ یہی تقاضے ” میں لکھتے ہیں:۔وہ خود ( یعنی سرسید ) انگریزی طرز زندگی اور انگریزی تہذیب سے اتنا متاثر ہوئے کہ انگریزوں کے کتوں کو ہندوستانیوں سے بر تر سمجھنے لگے۔انگریزوں کی تہذ یہی فتح صرف اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ سیاسی فاتح تھے۔سیاسی فاتح اکثر تہذ یہی غلام بن جاتے ہیں یوں کہئے کہ سیاسی طور پر مکمل فتح پانے کے بعد انگریز تہذ یہی لڑائی لڑے اور سرسید اس جنگ میں انگریزی فوج کے کمانڈر تھے۔11 مولوی چراغ علی سنت اور حدیث میں کوئی مابہ الامتیاز امر نہیں دیکھتے۔ان کے نزدیک عقیدۂ احادیث کی پیروی لازمی نہیں ہے۔اس