براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 82 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 82

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام موقف پر مولوی چراغ علی یہ دلیل دیتے ہیں:۔82 جن محققین نے احادیث کو جمع کیا اور ان کی چھان بین کی ہے ان کا یہ قول ہے، کہ عموماً کیسی ہی مضبوط اور محکم اسناد کیوں نہ ہوں، احادیث پر اعتبار نہیں ہو سکتا، اور جو شے اس میں بیان کی گئی ہے ، اس کا یقینی علم اس سے حاصل ہو سکتا ہے۔اس قول پر اگر خیال کیا جائے تو احادیث کے لئے معیار صداقت اور اصولِ عقلی کے قائم کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی، کیونکہ وہ بذات خود بالکل نا قابل اعتبار ہیں۔" 12 مولوی چراغ علی نے مذکورہ کتاب کے صفحہ 19 پر لکھا ہے کہ فرد فرد چند بزرگوں کو احادیث کے اس بڑے انبار کی چھان بین کا خیال پیدا ہوا۔گویا یہ لوگ محقق ہوئے اور ان کے اسماء حاشیہ میں یہ درج ہیں محمد بن اسماعیل بخاری۔مسلم بن الحجاج نیشاپوری، ابو داؤد السجستانی، ابو عیسی محمد ترمذی، ابو عبد الرحمان نسائی ، ابن ماجہ القزوینی۔ان کو موصوف نے صحاح ستہ کے نام سے لکھا ہے۔اس لفظ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ منطقی طور پر تو مولوی چراغ علی نے ان چھ افراد کے مرتبہ مجموعہ احادیث کو درست تو تسلیم کر لیا مگر ان کی طرف لفظ عموما کا استعمال کر کے اپنے ناقابل اعتبار ہونے کے فیصلے کو مشکوک کر دیا اور قول جس کا مولوی چراغ علی نے حوالہ دیا ہے معین نہیں ہے اور نہ ہی کسی کتاب کی طرف اشارہ ہے جس سے یہ اخذ کیا گیا ہے۔اسے مولوی صاحب کی حد سے بڑھی ہوئی اسلامی بیزاری کا نام دیا جا سکتا ہے۔اس کے بر عکس حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب سنت کو مقدم رکھتے ہیں اور حدیث کو ثانوی درجے پر۔آپ اپنی کتاب "شہادت القرآن " میں بیان کرتے ہیں کہ :۔در حقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقتِ اسلام سے بہت ہی ڈور ڈالدیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دُنیا میں نام ونشان بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اس مقدس معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی مُحدّث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔" اپنی ایک اور کتاب میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب لکھتے ہیں کہ :۔“ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجو د بھی نہ ہو تاجو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصل تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا۔کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا۔تاہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا۔گویا اسلام نور علی نور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اس نور کوز۔اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہو گئیں۔" 13 تعدد ازدواج کے بارے میں مولوی چراغ علی لکھتے ہیں کہ یہ رواج عرب اور دوسرے مشرقی ممالک میں اس طرح رگ و پے میں سرایت کر گیا کہ آنحضرت صلعم اس کے موقوف کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے تھے کہ قرآن میں اس کے خلاف حکم دیا جاۓ۔14 ملاحظہ فرمائیں کہ مولوی چراغ علی صاحب قرآن اور آنحضرت کے بارے میں کس قسم کی رائے رکھتے ہیں یعنی یہ کہ وو