براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 80
براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 80 با قاعدہ اور مکمل قواعد نہیں ہیں۔میرے خیال میں ان میں سے تین چوتھائی سے زیادہ صرف حروف واحد الفاظ اور ادھورے فقرے ہیں جن سے خلاف قیاس خیالی نتائج پید اکئے گئے ہیں اور جس کی کوئی صحیح تعبیر قانونی جائز نہیں رکھی جاسکتی۔" مولوی صاحب مزید اسی تسلسل میں لکھتے ہیں کہ :۔“ یہ دو سو آیات قرآنی سول لاء کے متعلق کوئی خاص تعلیم یا محکم قواعد نہیں ہیں۔ان میں سے بہت سے نتائج اٹکل پچو معلوم ہوتے ہیں۔۔۔اور نہ اس نے (یعنی قرآن نے) سول لاء کے متعلق کوئی خاص قواعد وضع کئے ہیں۔۔۔" 6 لیکن مولوی چراغ علی نے ان بہت سے " اٹکل پچو " نتائج میں سے کسی کا بھی حوالہ دے کر ثابت نہیں کیا ہے تاکہ ان کے اس ادعاء کا جائزہ ہی لیا جا سکے۔مولوی چراغ علی کی اس متشکلک تحریر سے تو زیادہ سے زیادہ قرآن کا نعوذ باللہ بلا ضرورت ہونا ثابت ہو تا ہے !چہ جائیکہ اکمل کتاب کا ثابت ہونا۔اس کے برعکس حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنی کتاب براہین احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔“ قرآن شریف کی فصاحت بلاغت جن لوازم اور خصائص سے مخصوص ہے وہ ایک ایسا امر ہے جس کو دانشمند انسان سوچتے ہی یہ یقین دل سمجھ سکتا ہے کہ وہ پاک کلام انسانی طاقتوں کے احاطہ سے خارج ہے۔۔۔۔قرآن شریف نے اپنی فصاحت اور بلاغت کو حریری اور فیضی وغیرہ انشا پر دازوں کی طرح فضول بیان کے پیرایہ میں ادا نہیں کیا۔اور نہ کسی قسم کے لغو اور ہنرل یا کذب کو اس پاک کلام میں دخل ہے۔بلکہ فرقان مجید نے اپنی فصاحت اور بلاغت کو صداقت اور حکمت اور ضرورت حقہ کے التزام سے ادا کیا ہے اور کمال ایجاز سے تمام دینی صداقتوں پر احاطہ کر کے دکھایا ہے۔چنانچہ اس میں ہر یک مخالف اور منکر کے ساکت کرنے کے لئے براہین ساطعہ بھری پڑی ہیں اور مومنین کی تکمیل یقین کے لئے ہزار ہاد قائق حقائق کا ایک دریائے عمیق و شفاف اس میں بہتا نظر آرہا ہے۔جن امور میں فساد دیکھتا ہے۔انہیں کی اصلاح کے لئے زور مارا ہے۔جس شدت سے کسی کو افراط یا تفریط کا غلبہ پایا ہے اس شدت سے اس کی مدافعت بھی کی ہے۔جن انواع اقسام کی بیماریاں پھیلی ہوئی دیکھی ہیں۔ان سب کا علاج لکھا ہے۔مذاہب باطلہ کے ہر ایک وہم کو مٹایا ہے۔ہر ایک اعتراض کا جواب دیا ہے کوئی صداقت نہیں جس کو بیان نہیں کیا۔کوئی فرقہ ضالہ نہیں جس کار د نہیں لکھا۔اور پھر کمال یہ کہ کوئی کلمہ نہیں کہ بلا ضرورت لکھا ہو۔اور کوئی بات نہیں کہ بے موقع بیان کی ہو۔اور کوئی لفظ نہیں کہ لغو طور پر تحریر پایا ہو"۔(نوٹ راقم الحروف: لیکن مولوی چراغ علی صاحب نے ان میں سے "بہت سے " کے بارے میں " اٹکل پچو " ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں اور مولوی عبدالحق صاحب ان کی تعریف میں رطب السان نظر آتے ہیں ! ) اور پھر باوصف التزام ان سب امور کے فصاحت کا وہ مرتبہ کامل دکھلایا جس سے زیادہ متصور نہیں اور بلاغت کو اس کمال تک پہنچایا کہ کمال حسن ترتیب اور موجز اور مدلل بیان سے علم اولین اور آخرین ایک چھوٹی سی کتاب میں بھر دیا۔تا کہ انسان جس کی عمر تھوڑی اور کام بہت ہیں بے شمار در دسر سے چھوٹ جائے اور تا اسلام کو اس بلاغت سے اشاعت مسائل میں مدد پہنچے اور حفظ کرنا اور یا د رکھنا آسان ہو۔" 7" مولوی چراغ علی صاحب قرآن کریم کی تعلیم کو جو سول لاء سے متعلق ہے اس کو کوئی محکم تعلیم نہیں سمجھتے بلکہ ان سے استخراج نتائج کو بھی اٹکل پچو قرار دیتے ہیں اس کے بر خلاف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنی ایک اور کتاب میں رقم کرتے ہیں کہ :۔قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن میں سزا یاطریق انصاف کی تفصیل