براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 61
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام میں اس کا ثبوت دے چکے ہیں۔32 اسی طرح حواشی کے مضمون کی طرف اشارہ کیے بغیر فرماتے ہیں جو فی الواقعہ مضمون حواشی میں درج ہے لیکن ایسے لوگ جو ضرورتِ کتب الہیہ سے منکر ہیں جیسے برہمو سماج والے سو ان کے ملزم کرنے لیے اگر چہ بہت کچھ ہم لکھ چکے ہیں۔" 33 اور یہ سب کچھ حواشی میں ہے۔لہذا متن کی طرح حواشی بھی مستقل مضمون ہیں۔61 اس طرح تصنیف براہین احمدیہ اور حواشی کی صورت جو بنتی ہے وہ یہ ہے یعنی براہین احمدیہ کا ابتدائی مسودہ بمع حواشی۔پھر۔مبیضہ اور اسی دوران حواشی میں مزید اضافہ جن پر تاریخیں موجود ہیں۔اور پھر کاتب۔کاتب سے اگلے مراحل کی تفصیل شیخ نور احمد مالک ریاض ہند پر یس کی زبانی ملاحظہ ہو: شیخ نور احمد صاحب مطبع ریاض ہند امر تسر بیان کرتے ہیں کہ انہیں پادری رجب علی کے مطبع سفیر ہند امر تسر سے لے کر چھاپنے کے لئے دی گئی تو : دو وو مجھے جب کتاب دی گئی تو قادیان بلا کر دی گئی تھی۔میں نے دیکھا کہ میاں شمس الدین اس کتاب سے مسودہ نقل کرتے تھے۔ان کا خط اچھا تھا۔جس قدر نقل ہو چکی تھی۔وہ مجھے حضرت نے دے دی۔اور باقی کے لئے فرمایا کہ جس قدر نقل ہوتی جائے گی۔ہم بذریعہ ڈاک یادستی بھیجتے رہیں گے۔آپ کا تاکیدی حکم تھا کہ کاپیاں اور پروف رجسٹری کرا کر بھیجنا کہ کہیں گم نہ ہو جاوے۔میں کاپیاں اور اصل مضمون تو رجسٹری کرادیتا لیکن پروف بغیر رجسٹری صرف ٹکٹ لگا کر بھیج دیتا۔مگر آپ بار بار یہی فرماتے کہ پروف بھی رجسٹری کر اکر روانہ کرو کہ اس میں احتیاط ہے۔اور آپ بھی جب پروف بھیجتے تو رجسٹری کراتے تھے۔" 34 کا پیاں امر تسر کبھی آپ خود لے جاتے یا بذریعہ ڈاک بصیغہ رجسٹری بھیجتے اور کبھی لالہ ملاوامل وغیرہ کو بھیج دیتے اور یہی طریق پروف بھیجنے کے متعلق تھا۔عام طور پر خود جانا پسند فرماتے تھے۔اور شیخ نور احمد کو تو عام ہدایت تھی کہ کبھی پروف بلار جسٹری نہ بھیجے جاویں۔۔۔قادیان محض ایک گاؤں تھا اور امر تسر تک یکہ پر جانا پڑتا تھا۔" 35 پہلے جن مراحل کا ذکر ہوا ہے۔اُن میں اگلا مرحلہ پروف کا تھا۔اور دوران پروف ریڈنگ عبارت اور حواشی وغیرہ میں یقیناً کمی بیشی ہوتی ہو گی۔ذرا اس کا حال بھی ملاحظہ ہو:۔خود مضمون لکھتے پھر صاف شدہ مسودہ کو پڑھتے۔پھر کاتب کو دیتے اور کاپیوں کی اصلاح فرماتے۔اور پھر خود ان کو لے کر امر تسر جاتے۔اور کاپیاں مطبع میں دے کر بعض اوقات آجاتے۔اور جب کا پیاں پتھر پر لگ جانے کی اطلاع ملتی تو خود امر تسر تشریف لے جاتے اور ان کا پیوں کے پروف پڑھتے۔ان ایام میں اس موقعہ کے لئے آپ کو کئی کئی مرتبہ جانا پڑتا (یادر ہے کہ امر تسر ، قادیان سے 36 میل کے فاصلے پر ہے۔ملاحظہ ہو لائف آف احمد " صفحہ 77 مصنفہ جناب اے۔آر درد صاحب) اور کئی کئی دن تک امر تسر میں قیام کرنے کی ضرورت پیش آتی 36 مولوی عبد الحق صاحب کو چاہئے تھا کہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل خود براہین احمدیہ کا مطالعہ کرتے اور مولوی چراغ علی مرحوم کی براہین احمدیہ سے قبل کی کسی تصنیف سے کوئی متعین مقام قائم کر کے رائے لکھتے۔لیکن مولوی عبدالحق صاحب نے بلا خوف ایک رائے