براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 60 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 60

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 60 تک خوشنویس رہے) نے نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ منشی کرم علی صاحب کاتب کی تصدیق سے بتایا کہ حضرت اقدس ( یعنی حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق ہر گز نہ تھا کہ وہ کتاب کا مسودہ تیار کر کے رکھیں بلکہ ساتھ ساتھ تحریر فرمایا کرتے تھے۔یہ بیان فاضل مصنف “حیاتِ احمد ” ( یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی حیات مبارکہ پر تصنیف) جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا ہے۔جو آپ نے مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 372-374 پر بیان کیا ہے۔اس تناظر میں اگر “سیرت المہدی ” کی روایت کو دیکھا جائے تو بظاہر اختلاف نظر آتا ہے۔یعنی “ 1879ء میں۔۔براہین احمدیہ کا حجم تقریباً دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ گیا تھا۔۔علاوہ ازیں اشتہار حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بابت براہین احمدیہ مورخہ مئی 1879ء 31 میں کتاب کے ڈیڑھ سو جز بتائے گئے ہیں۔جنہیں جناب اے۔آر۔درد صاحب نے (Life of Ahmad) صفحہ نمبر 70 پر محولہ اشتہار کے حوالے سے تقریباً 2500 صفحات بتایا ہے۔اور حیات احمد کے ہی صفحہ نمبر 371 پر درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (حضرت مرزا غلام احمد قادیانی) کے آخری ایام میں بعض کتب زیر تصنیف تھیں اور وہ حضور کی وفات کے بعد شائع ہوئیں تھیں وہ بدستور نا مکمل شائع کی گئی ہیں۔اگر آپ کا طریق عمل کل مسودہ کتاب کو پہلے سے تیار کر لینا ہوتا تو کچھ شک نہیں یہ کتابیں نا مکمل شائع نہ کی جاتیں۔ناچیز کی رائے میں یہ بظاہر اختلاف حضرت مرزا صاحب کی تصنیف کے ابتدائی ایام اور وفات کے قریب ایام کے طریق تصنیف یا ابتدائی اور بعد کے طریق تصنیف کا فرق ہے۔جبکہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے حوالے سے ابتدائی تصنیف بمع حواشی 1879ء میں تصنیف ہو چکے تھے جب کتاب مسودہ سے مبیضہ ہو کر کاتب کے پاس جانے لگتی تھی تو آپ نے درج بالا امور کو اصل حواشی میں جو بجائے خود ایک مستقل مضمون ہیں، میں بقید تاریخ درج فرماتے تھے یعنی مسودہ سے مبیضہ ہونے کی حالت میں۔اس کا ثبوت اس کتاب “حیاتِ احمد صفحہ 385 پر ملتا ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا اپنا خط اپنی حیثیت میں بہت پختہ اور ایک خاص شان رکھتا تھا لیکن آپ اس لحاظ سے کہ مبادا کاتب کو کاپی لکھتے وقت وقت ہو یا غلطیاں زیادہ ہوں۔میاں شمس الدین کو صاف کرنے کے لئے دے دیتے تھے۔اور میاں شمس الدین خوشخط لکھ کر لے آتے تھے۔اور پھر وہ مسودہ صاف شدہ کاتب کے پاس جاتا تھا۔اس طرح براہین احمد یہ تصنیف ہو رہی تھی۔مزید برآں مثلاً براہین احمدیہ صفحہ نمبر 112 پر حاشیہ نمبر 10 میں درج فرمایا فرقان مجید کے کئی مقامات کہ جن کو انشاء اللہ فصل اول میں ذکر ہو گا"۔صفحہ 273 پر آپ حاشیہ نمبر 11 میں تحریر فرماتے ہیں “بارہا ہم نے اسی حاشیہ میں لکھ دیا ہے۔۔”اور “ حاشیہ در حاشیہ صورت دوم میں اسی کی طرف ہم نے صریح اشارہ کیا ہے۔” ان سے ثابت ہے کہ حاشیے اپنے مقام کے لحاظ بھی اول مسودے کے ساتھ تھے۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب براہین احمدیہ کے مقدمہ (مشمولہ براہین احمدیہ حصہ دوم صفحہ 130) میں درج فرماتے ہیں تقریباً باراں سیپارہ قرآن شریف کے اس کتاب میں اندراج پائے ہیں۔” جبکہ زیر نظر مضمون میں ہی کسی دوسرے مقام پر لکھا گیا ہے کہ کل 104 آیات قرآنیہ سے اثبات نبوت محمدیہ و قرآن کریم استدلال کیا ہے۔11 آیات قرآنیہ کی تفسیر کی ہے اور 3 مکمل سورتوں کی تفسیر ہے جو بہر کیف باراں سیپارہ سے بہت کم بنتی ہے۔لہذا یہ کہنا درست ہے کہ براہین احمدیہ مکمل حالت میں لکھی جاچکی تھی جو حاشیوں سمیت تھی جو کہ اس کے مستقل مضامین ہیں۔ایک اور مقام پر حضرت مرزا صاحب اپنے مسلسل مضمون میں جو پہلی فصل کا ہے براہین احمدیہ کی جلد چہارم میں درج فرماتے ہیں:۔۔۔اب بھی خدا تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے مختلف بولیوں کو اپنے بندہ پر القا کرتا ہے اور ایسی زبانوں میں الہام کر سکتا ہے جن زبانوں کا ان بندوں کو کچھ بھی علم حاصل نہیں جیسا کہ ہم حاشیہ در حاشیہ نمبر 1