براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 57 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 57

براہین احمدیہ مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام جائے۔۔" 21" 57 اصل حقیقت یہ ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب کو اس خط و کتابت کی بناء پر کچھ لکھنے کی توفیق ہی نہیں ملی۔خود ان مکتوبات کے اندرونی شواہد ایسے زبردست ہیں کہ کسی محقق کے لئے انکار کی گنجائش نہیں۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کوئی مضمون لکھتے تو حضرت مرزا صاحب اسے حاشیہ میں ضرور درج کر دیتے یا بطور ضمیمہ وہ اصل کتاب کا جزو قرار دے کر اسے شائع نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ حضرت مرزا صاحب کے مکتوبات سے ظاہر ہے۔ایک خط میں حضرت مرزا صاحب مولوی چراغ علی صاحب کو تحریر کرتے ہیں کہ “آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القا ہوں میرے پاس بھیج دیں، تا اُسے رسالہ میں حسب موقعہ اندراج پا جائے یا سفیر ہند میں۔۔۔۔" 22 یہ عام قاعدہ ہے کہ مصنفین اپنی تصنیف یا تحقیق کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے معاصرین و متاخرین کی تحقیقات کو بھی دیکھتے ہیں کہ تا بات کو آگے بڑھایا جا سکے حضرت مرزا صاحب نے اس خیال کے پیش نظر مولوی چراغ علی صاحب کے توجہ دلانے پر ان کے مضمون کو بھجوانے یا اخبار “ سفیر ہند ” میں چھپوانے کو لکھاتا کہ مولوی صاحب کی تحقیقات بھی سامنے آجائیں۔اخبار “سفیر ہند کا تذکرہ آیا ہے تو یہاں بے جانہ ہو گا کہ اس بات کا دوبارہ تذکرہ کر دیا جائے۔جیسا کہ مضمون زیر نظر میں درج کیا جا چکا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اسی اخبار “سفیر ہند ” میں مولوی چراغ علی کے دس روپے کا نوٹ حیدر آباد دکن سے بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت اور حمایت اسلامیہ سے بوجہ چندہ کے اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے۔گمان غالب ہے کہ یہ تحریک ان احباب کی طرف سے کی گئی ہو جنہوں نے بعد میں سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کا شرف پایا تھا۔اُن میں سے چند ایک کا ذکر اس مضمون کے پیر 8-7 پر کیا گیا ہے۔مگر مولوی عبد الحق صاحب ادھورے اقتباسات بطور شہادت پیش کر کے کتاب میں مدد لینے کے ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کے بعد کے لوگ اس پر تحدی سے قائم ہیں۔اندریں صورت صرف ایک ہی راہ رہ جاتی ہے کہ براہین احمدیہ کے مقابلہ میں مولوی چراغ علی صاحب کی کتابوں کو رکھ کر دیکھ لیا جائے کہ آیا کوئی بھی نسبت ہے۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کچھ بھی لکھتے تو حضرت اقدس کی شکور فطرت اس کے اظہار سے مضائقہ نہ کرتی۔نواب اعظم یار جنگ (مولوی چراغ علی صاحب) کی نہایت حقیر امداد کا جو انہوں نے کتاب کی خریداری کی صورت میں کی شکریہ ادا کیا ہے۔بلکہ مولوی چراغ علی صاحب کا تذکرہ نہ صرف براہین احمدیہ میں کیا بلکہ ان کے دس روپے کا نوٹ بھجوانے کا ذکر اخبار “ سفیر ہند ” کے ایک اعلان کے آخر پر بالخصوص بڑی ممنونیت سے کیا ہے۔جس کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔وہ تو ایک بڑے آدمی تھے آپ نے ان لوگوں کا بھی نام بنام شکر یہ ادا کیا ہے جنہوں نے کچھ آنے (ایک روپے کے سولہ آنے ہوتے تھے اور ایک آنے میں چار پیسے ) کتاب کی امداد میں دیئے تھے۔غرض یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ براہین احمدیہ ” کی تصنیف میں کسی شخص کی علمی یا دماغی قوت کا دخل نہیں۔4-8 - مکتوبات کے نفس مضمون میں حضرت مرزا صاحب کے علم کلام کے بے بدل اصول: حضرت مرزا صاحب کے ان مکتوبات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے علم کلام میں وہ رنگ پیدا کر دیا کہ اس سے پہلے کسی دوسرے کو وہ بات نصیب نہیں ہوئی مثلاً آپ نے تحریر کیا کہ “ جو براہین (جیسے معجزات وغیرہ) زمانہ گذشتہ سے تعلق رکھتے ہوں ان کا تحریر کرناضروری نہیں کہ منقولات مخالف پر حجت قویہ نہیں آسکتیں جو نفس الامر میں خوبی اور عمد گی کتاب اللہ میں پائی جائے یا جو عند العقل اس کی ضرورت ہو وہ دکھلانی چاہئے۔" 23