براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 58
براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 58 یہ ایک عظیم الشان اور مسکت طریق استدلال ہے جس کے مقابلہ میں کوئی مذہب ٹھہر نہیں سکتا۔24 سب سے بڑی اور نمایاں بات جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے علم الکلام میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ الہامی کتاب خود ہی دعویٰ کرے اور آپ ہی اس دعوے کی تائید کے دلائل دے۔نیز آپ منکرین و معترضین اسلام کے حملوں کے جواب میں پہلے جس چیز کو لیتے وہ کتاب اللہ کی ذاتی خوبیوں اور تعلیم کے کمالات کا اظہار اور معقولی رنگ میں اس کا قابل قبول ہونا تھا۔آپ صرف معترضین کا منہ بند کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ صداقت اور حق کو ایسے رنگ میں پیش کرنا چاہتے تھے کہ لوگ اسے قبول کریں اور اس کے بعد الزامی جواب دینا بھی کر ہا چاہتے تھے کہ دروغ گورا تا بخانه اش باید رسانید۔25 آپ کے وقت میں مولوی ابو منصور صاحب دہلوی عیسائیوں کے رد میں کتابیں لکھنے میں مشہور تھے مگر انہوں نے ہمیشہ الزامی جوابات کی طرف زیادہ توجہ کی یہی حال دوسرے مسلمان مناظرین اور واعظین کا تھا۔مگر حضرت مرزا صاحب نے برخلاف اس وقت کی روش کے حقیقی جوابات کو مقدم کیا آپ نے ایک اصل پیش کیا کہ قرآن کریم کی کسی تعلیم و ہدایت پر یا آنحضرت صلی ایم کے کسی فعل پر جہاں اعتراض کیا گیا ہے اسی جگہ حقائق و معارف کا ایک خزانہ مخفی ہے اور معترضین کے تمام بڑے بڑے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے اس حقیقت کو واضح کر دیا۔اس عہد کے بڑے بڑے مصنفین کی تصنیفات جو انہوں نے تائید اسلام کے لئے معترضین اسلام کے رد میں لکھیں تو دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ این زمین را آسمانے دیگر است 24 جب کبھی کوئی ایسا اعتراض یا مسئلہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی خدمت میں پیش ہوتا۔یا کسی کی تحریر کے ذریعہ حضور (حضرت مرزا صاحب) کو پہونچتا کہ جس کا جواب دینا ضروری ہوتا۔تو عام طور پر حضرت صاحب (حضرت مرزا صاحب ) اس اعتراض یا مسئلہ کے متعلق مجلس میں اپنے دوستوں کے سامنے پیش کر کے فرماتے کہ اس معترض کے اعتراض میں فلاں فلاں پہلو فرو گذاشت کئے گئے ہیں۔یا اس کی طبیعت کو وہاں تک رسائی نہیں ہوئی۔یا یہ اعتراض کسی سے سن سنا کر اپنی عادت یا فطرت کے خبث کا ثبوت دیا ہے۔پھر حضور (حضرت مرزا صاحب ) اس اعتراض کو مکمل کرتے اور فرمایا کرتے کہ اگر اعتراض ناقص ہے تو اس کا جواب بھی ناقص ہی رہتا ہے۔اس لئے ہماری یہی عادت ہے کہ جب کبھی مخالف کی طرف سے کوئی اعتراض اسلام کے کسی مسئلہ پر پیش آتا ہے تو ہم اس اعتراض پر غور کر کے اس کی خامی اور کمی کو خود پورا کر کے اس کو مضبوط کرتے ہیں اور پھر جواب کی طرف توجہ کرتے ہیں اور یہی طریق حق کو غالب کرنے کا ہے۔27 26 49 چند واقعات مندرجہ براہین احمدیہ بقید تاریخ برائے تخلیط رائے مولوی عبد الحق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے جن خطوط کا تذکرہ مولوی عبد الحق صاحب نے مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔۔میں کیا ہے ان پر مندرجہ تواریخ 19 فروری 1879ء اور 10 مئی 1879ء ہیں جبکہ کتاب (براہین احمدیہ ) جو بعد میں چھپ کر شائع ہوئی اس کی اندرونی شہادتیں یہ بتارہی ہیں کہ مکمل طور پر یہ وہ کتاب نہیں جو 1879ء میں لکھی جاچکی تھی۔اس سلسلہ میں ایک روایت جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے نقل کی وہ موجودہ کتاب کی تصنیف کے بارے میں روشنی ڈالتی ہے:۔“ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے 1879ء میں براہین کے متعلق اعلان شائع فرمایا تو اس وقت آپ براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم قریباً دو ڈھائی ہزار صفحہ تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کئے تھے کہ جن کے متعلق آپکا دعویٰ تھا کہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی اور آپ کا پکا ارادہ تھا کہ جب اس کے شائع ہونے کا انتظام ہو تو کتاب