براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 56
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں ” کے یہ فقرہ بھی ہماری ما قبل دلیل کا مؤید ہے۔56 مولوی عبد الحق صاحب نے جو دو سر اخط حضرت مرزا صاحب کا نقل کیا ہے وہ ان الفاظ سے شروع ہو تا ہے “ آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ پہنچانہ مضمون پہنچا، اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید طیار کر کے میرے پاس بھیج دیں، اور میں نے بھی ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علی حقانیة کتاب اللہ القرآن و النبوة المحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اُس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں۔سو اس امر میں آپ توقف نہ فرماویں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں۔" 17 ( اس خط پر اور پہلے خط پر مولوی عبد الحق صاحب نے تاریخ تحریر کا اندراج نہیں کیا) اس سے ظاہر ہے کہ وہ مضمون یا اس خط کا جواب تک بھی مولوی چراغ علی صاحب نے نہیں دیا جیسا کہ صاف لکھا ہے کہ “ آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا۔پھر یہ فقرہ تو خصوصی طور پر توجہ طلب ہے اس میں کتاب براہین احمدیہ کی تالیف کا ذکر ہے اور مولوی صاحب اگر کوئی مضمون لکھیں تو اس کے درج کرنے کا وعدہ کیا۔لیکن اس طرح “صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں۔" اس کا مطلب صاف ہے کہ میں بطور حاشیہ کے اس پر خود لکھوں گا پھر اگلے خط میں اس کی قطعی صراحت موجود ہے کہ : “ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔” 18 اس خط پر مولوی عبد الحق صاحب نے تاریخ کا اندراج نہیں کیا۔اگلے خط میں حضرت مرزا صاحب نے ان امور کو مولوی چراغ علی صاحب کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے “ بہر صورت میں اس دن بہت خوش ہوں گاجب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی آپ بمقتضا اس کے کہ الكَرِیمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا مضمون تحریر فرماویں۔19 اور آخری خط محررہ 10 مئی 1879ء میں ان امور کی مزید صراحت کر دی گئی ہے: کتاب (براہین احمدیہ ) ڈیڑھ سو جز ہے جس کی لاگت تخمینانو سو چالیس روپیہ ہے ، اور آپ کی تحریر محققانہ ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی۔20 یہاں بھی مولوی چراغ علی کی تحریر کو ملحق کرنے کی بابت لکھا گیا ہے جو ظاہر ہے کہ بطور حاشیہ کے ہو گی جیسا کہ اس کی حضرت مرزا صاحب کے محولہ بالا خط سے بھی صراحت پائی جاتی ہے۔4-7- حضرت مرزا صاحب کا دوران تصنیف اعتراضات و دیگر امور کو کتابوں کے حاشیہ پر درج کرنے کا طریق: علاوہ ازیں حضرت مرزا صاحب کا طریق اس قسم کے مضامین کو اپنی کتابوں کے حاشیہ میں درج کرنے کا تھا۔جیسے کہ اسی کتاب اس براہین احمدیہ کے حصہ سوم میں آپ تحریر فرماتے ہیں: “ قرآن شریف کیو نکر تمام حقائق الہبیہ پر حاوی ہے۔تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب طالب حق بن کر یعنی اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کر کے کسی کتاب عبرانی، یونانی، لاطینی، انگریزی، سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الہیات کا نہایت بار یک دقیقہ پیدا کر کے دکھلاویں تو ہم اُسکو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے۔بشر طیکہ اسی کتاب کی اثناء طبع میں ہمارے پاس بھیج دیں تا کہ وہ اس کے کسی مقام مناسب میں بطور حاشیہ مندرج ہو کر شائع ہو