براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 35
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اور کیونکر مدلل اور موجز عبارت میں تمام ضروریات توحید کا ثبوت دے کر طالبین حق پر معرفت الہی کا دروازہ کھول دیا ہے اور کیونکر ہر یک آیت اپنے پر زور بیان سے مستعد دلوں پر پورا پورا اثر ڈال رہی ہے۔اور اند رونی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ درجہ کی روشنی دکھلا رہی ہے۔65۔4 یہ پنڈت صاحب کا خوش عقیدہ تھا جس کو پر زور دلائل دے کر رڈ کر کے پنڈت صاحب پر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ 66 35 خدائے تعالیٰ ہر گز ادھورا اور ناقص نہیں بلکہ مبداء ہے تمام فیضوں کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا۔۔۔گمان غالب یہی ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب براہین احمدیہ کو مشہور اور پر زور تالیف لکھنا ایک سُنی سنائی بات لگتی ہے اگر موصوف کے مطالعے کا نتیجہ ہوتی تو اس کا کچھ عکس تو اُن کی تحریروں میں موجود ہوتا۔مولوی صاحب تو فقط خطوط کی عبارتوں کو الٹ پھیر کر من مانا نتیجہ نکالتے ہیں۔بہر کیف پر زور کی کیفیت اور انبیاء کی بات حضرت مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی 9 ستمبر 1933ء کی ایک مجلس عرفان سے یہاں نقل کی جاتی ہے جس میں حضرت مسیح موعود کی ابتدائی زمانہ کی اور آخری زمانہ کی کتابوں میں نمایاں فرق کی بابت بیان کیا گیا ہے کہ اُن میں زیادہ زور زیادہ وضاحت اور خدا تعالیٰ کے جلال کا زیادہ اظہار پایا جاتا ہے۔جبکہ براہین احمدیہ حضرت اقدس مرزا صاحب کی پہلی کتاب ہے اور اس کے بعد 81 اکیاسی 82 بیاسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سے 23 کتابیں تو صرف عربی زبان میں ہیں: ذکر ہوا اب گاندھی جی میں وہ جوش و خروش نہیں رہا جو پہلے تھا۔فرمایا:۔نبیوں اور ریفار مروں میں یہ بھی فرق ہو تا ہے کہ نبی کی عمر جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اس کا زیادہ زور کے ساتھ اظہار ہوتا جاتا ہے۔لیکن دنیاوی لیڈ رجوں جوں بوڑھے اور کمزور ہوتے جاتے ہیں ان کی سر گرمیوں اور کوششوں میں بھی کمزوری آتی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود کی اگر ابتدائی زمانہ کی کتابوں اور پھر آخری زمانہ کی کتابوں کو دیکھا جائے تو ان میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔بعد کی تحریروں میں زیادہ زور زیادہ وضاحت اور خدا تعالیٰ کے جلال کا زیادہ اظہار پایا جاتا ہے۔67" حضرت مرزا صاحب کے نزدیک پُر زور ہونا کیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب کی بطور نمونہ درج کی گئی تحریرات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ : 1۔حضرت مرزا صاحب کے نزدیک پُر زور ہو نا فصاحت کا لازمہ ہے جس میں استدلال ہوتا ہے اور وہ پوچ اور لچر نہیں ہو تا۔گویا پر زور ہو نا فصاحت کا ایک جز ہے نہ کہ کل۔اسی طرح پر زور بیان میں شکوک و شبہات نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ فضول اور طول طویل ہو تا ہے۔3 پھر اس کی مدلل اور موجز عبارت اپنے اندر ثبوت رکھتی ہے بلکہ معرفت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔اور یہ پر زور بیان مستعد دلوں پر پورا پورا اثر ڈالتا ہے اور اندرونی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ درجہ کی روشنی دکھلاتی ہے۔4 علاوہ اوپر بیان کردہ امور کے پر زور عبارت کوئی بات ثابت کر دیتی ہے جیسے کہ آپ نے ثابت کر دکھایا کہ :۔خدا تعالیٰ ہر گز ادھورا اور ناقص نہیں۔بلکہ مبدء ہے تمام فیضوں کا اور