براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 36 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 36

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام • جامع ہے تمام خوبیوں کا 36 لیکن اس کے بر عکس او پر درج کی گئی مثالیں اُن امور پر زور دے رہی ہیں جو عام تحریروں کالازمی جزو تو ہیں لیکن پر زور کے معانی نہیں کھولتیں اور نہ ہی اُس کوچہ میں داخل ہوتی ہیں بلکہ خود اپنے تصنع کلام کے اقراری ہیں کبھی کسی صنف کو اعلیٰ قرار دیتے ہیں اور کبھی کسی دوسری کو۔جبکہ پر زور تو فی ذاتہ فصاحت و بلاغت کا ہی ایک جز ہے نہ کہ پوری بات ہے جسے حضرت مرزا صاحب نے اپنی تحریروں کے ساتھ کھول کر بیان کر دیا ہے۔جنہیں براہین احمدیہ کی ورق گردانی کرتے ہوئے بطور مثال درج کرنے کے لیے نقل کیا گیا ہے۔اشتہار حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود نے اتمام حجت کے لیے ایک اشتہار براہین احمدیہ کی ابتداء میں درج فرمایا۔جو بر امین احمدیہ کے پر زور ہونے پر دال ہے۔اس اشتہار کا ایک حصہ بطور شہادت مبحث درج ذیل ہے: اشتہار انعامی دس ہزار روپیہ ان سب لوگوں کے لئے جو مشارکت اپنی کتاب کے فرقان مجید سے ان دلائل اور براہین حقانیہ میں جو فرقان مجید سے ہم نے لکھیں ہیں ثابت کر دکھائیں یا اگر کتاب الہامی اُن کی اُن دلائل کے پیش کرنے سے قطع عاجز ہو تو اس عاجز ہونے کا اپنی کتاب میں اقرار کر کے ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دیں۔68" میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں اتمام اللجہ شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے اُن سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے درباره حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کیں ہیں اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یاربع ان سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشر طیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالا تفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا۔مگر واضح رہے کہ 2-8 - مولوی عبدالحق کے تتبع میں بعد میں آنے والوں کا براہین احمدیہ کے بارے میں بلا دلیل رویہ مولوی چراغ علی(1845-1895) سرسید کے پیر و خاص تھے 12 بعد میں آنے والوں نے مولوی چراغ علی کے ساتھ سر سید کا تعاون بھی براہین احمدیہ کی تصنیف میں شامل کر لیا 70 حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (1835-1908) کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کو بھی جناب مرزا صاحب کی تصنیف میں مدد دینے والا کہنا شروع کر دیا جبکہ بقول مرزا حیرت دہلوی، حکیم نور الدین مرزا صاحب کے مقابلہ میں چند سطریں بھی اردو کی نہیں لکھ سکتے تھے۔21 براہین کی تصنیف میں مدد دیئے جانے اور اس کے براہونے کا ایک اصولی جواب اخبار وکیل کے ایڈیٹر ابو الکلام آزاد نے لکھا کہ بزرگان اسلام اب براہین احمدیہ کے بُرا ہونے کا فیصلہ دے دیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت کی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ما تقدم اپنے آئندہ دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔لیکن اس کے بہترین فیصلہ کا وقت 1880ء تھا جبکہ وہ کتاب شائع ہوئی۔مگر اس وقت مسلمان بالاتفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے 2 اور اس وقت (یعنی کتاب کی اشاعت کے وقت 1880ء۔,69