براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 34 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 34

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام دعویٰ کو واضح، صاف اور روشن کرنا چاہتے ہیں۔سرسید کی مذہبی تحریریں پر زور تو ہیں مگر شبلی کی تحریروں کی طرح واضح نہیں۔60 شمس الرحمن فاروقی اپنے رسالہ میں ابو الکلام آزاد کے بارے میں لکھتے ہیں: “ ابو الکلام آزاد نے ان چیزوں ( تشبیہ ، استعارہ ، ضائع بدائع ، قافیہ اور ترصیع وغیرہ) کو مقصود کے طور پر نہیں بلکہ تزئین کے طور پر استعمال کیا۔لہذا ان کی نثر اپنے تمام بناؤ سنگھار کے باوجود اپنے منصب سے اتر گئی۔وہ صاحب طر ز تو ہیں، پر زور بھی ہیں لیکن ان کی نثر اردو کے اسلوب کے لئے نمونے کا کام نہیں کر سکتی۔61 34 ان نمونوں کے علاوہ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف اس بارے میں کیا فرماتا ہے۔سورۃ نوح کے مختصر تفسیری نوٹس میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں جو سورۃ نوح کی آیت 6 تا 10 کے مضامین پر مشتمل ہے: محض پیغام دینا کافی نہیں ہوا کر تا بلکہ اس پیغام کو سمجھانے کے لیے ایک نبی کو اپنی جان گو یا ہلاک کرنی پڑتی ہے۔کوئی ذریعہ وہ ایسا نہیں چھوڑ تا جس سے قوم کے بڑوں اور چھوٹوں کو سمجھایا جا سکتا ہو۔• کبھی گریہ وزاری کے ساتھ اور کبھی چھپ چھپ کر تا قوم کے متکبر لوگ ، عوام الناس کے سامنے صداقت کو تسلیم کر کے شر مندگی نہ محسوس کریں۔کبھی اعلان عام کے ساتھ تاکہ عوام الناس کو بھی براہ راست نبی سے پیغام پہنچے ورنہ ان کے سردار تو اس پیغام کو محرف کر کے پیش کریں گے پھر کبھی انہیں طمع دلاتا ہے کہ دیکھو! اگر تم ایمان لے آؤ گے تو آسمان تم پر بکثرت رحمتوں کی بارش نازل فرمائے گا اور کبھی خوف دلاتا ہے کہ اگر ایمان نہیں لاؤ گے تو آسمان سے رحمت کی بارش کی بجائے انتہائی ہلاکت خیز بارش ہو گی اور زمین بھی تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکے گی بلکہ زمین سے بھی ہلاکت کے سوتے پھوٹیں گے۔تب اس اتمام حجت کے بعد اسی کا نام اتمام حجت ہے ، آخر ان کی صف لپیٹ دی گئی۔" 62 حضرت مرزا صاحب کی زیر بحث کتاب براہین احمدیہ کے چند مقامات پر جہاں لفظ پر زور استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہوں: 1۔حضرات آریا سماج والے انصافاً ہم کو بتلاویں کہ رگوید نے ان شرتیوں میں اپنا منشا ظاہر کرنے میں کون سی بلاغت دکھلائی ہے۔اور آپ ہی بولیں کہ کیا اس کی تقریر فصیح تقریروں کی طرح پر زور اور مدلل ہے یا پوچ 63 اور لچر ہے۔2 انتہائی معرفت بجز اس کے عند العقل ممکن نہیں کہ مالک حقیقی کا جمال بطور حق الیقین مشہور ہو یعنی ظہور اور بروز تمام ہو جس پر زور بیان پایا جاتا ہے اور کس کی عبارت طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں ڈالتی ہے اور فضول اور طول طویل ہے۔64