براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 33
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 33 کوئی واعظ ، کوئی فصیح مقر یا لیکچر ار اپنے کلام اور فصاحت سے اتنا اثر نہیں ڈال سکتا جتنا ڈرامے کے چند ایکٹ خصوصاً جب واقعات ایسے حیرت افزا اور جوش انگیز ہوں جن سے قوموں کی قوموں میں انقلاب پید اہو گیا ہو، خیالات کی ترتیب بدل گئی ہو۔دلوں میں اُمنگ اور اُمنگوں میں ایچ پید اہو گئی ہو۔اور سونے میں سہا گہ کہ ان واقعات کا لکھنے والا ایسا ہو جس کے قلم میں زور اور تاثیر ہے اور جسے نظم و نثر میں یکساں کمال ہے۔یہی زور جو مولوی عبدالحق صاحب کو ڈرامے میں نظر آتا ہے اسی کو ایک اور مقام پر خطوط پر منطبق کرتے ہیں اور جادو کا نام دیتے ہیں۔ڈرامے کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔چنانچہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: 55 “ ادب میں سینکڑوں دل کشیاں ہیں ، اس کی بے شمار راہیں اور ان گنت گھاتیں ہیں۔لیکن خطوں میں جو جادو ہے ( بہ شرطے کہ خط لکھنا آتا ہو ) وہ اس کی کسی ادا میں نہیں، نظم ہو ، ناول ہو ، ڈراما یا کوئی مضمون ہو غرض ادب کی تمام اصناف میں صنعت گری کرنی پڑتی ہے اور صنعت گری کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔بناوٹ کی باتیں بہت جلد پرانی اور بوسیدہ ہو جاتی ہیں۔صرف سادگی ہی ایسا حسن ہے جسے کسی حال اور کسی زمانے میں زوال نہیں۔بہ شرطے کہ اس میں صداقت ہو۔56 اسی پر زور کو۔۔مولانا الطاف حسین حالی، مولوی عبدالحق کے یہاں بھی دیکھتے ہیں۔ایک مقدمہ میں خود مولوی عبد الحق صاحب حالی کے خط کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: میرا ایک مضمون عالم اسلامی ” کے نام سے باقساط نکلا جو چار سو صفحات تک پہنچ گیا تھا۔اس کو دیکھ کر مولانا حالی نے مجھے ایک خط لکھا تھا: “اسلام نمبر میں آپ کا مضمون پڑھ کر بہت لطف آیا، نہایت پر زور مضمون لکھا ہے۔57 پھر ایک مقام پر مولوی عبد الحق صاحب رسالہ “ معارف ” کی بابت لکھتے ہیں: “معارف، اگر چہ ناقدر دانی کی وجہ سے بند ہو گیا، لیکن اس کے پر زور مضامین اور ادبی خوبیوں کی وجہ سے سارے ملک میں غلغلہ پڑ گیا۔" 58 رای طرح ایک مقام پر سادگی، خلوص، جوش اور صداقت کو پُر زور ہونے پر ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں: پیغمبر اسلام (صلی الم) کی نعت میں ہمارے شعراء نے بڑے بڑے زور مارے ہیں اور حق یہ ہے کہ نئے نئے اسلوب سے بڑی پُر زور اور بے مثل نظمیں لکھی ہیں ، لیکن مسدس حالی کے چند بند جو بعثت خاتم النبیین پر ہیں پڑھیے۔ان میں جو سادگی، خلوص، جوش اور صداقت ہے اس کا کہیں جو اب نہیں 59 اس کے علاوہ اور بیسیوں مقامات پر مولوی عبد الحق صاحب نے کئی مصنفین کے بارے میں پر زور کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔خو د حالی نے مولوی عبدالحق کے بارے پر زور کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ان الفاظ کو ڈاکٹر سید عبد اللہ نے سر سید کے بارے میں بھی لکھا ہے جیسا کہ: سر سید اپنے استدلال کے ذریعے بیان میں زور اور قوت پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر شبلی ایک مدرس کی طرح اپنے