براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 32
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام پھر خدا نے بذریعہ اپنے خاص کلام کے مراتب اعلیٰ یقین اور معرفت تک ان کو پہنچا دیا تھا اور اس نقصان اور قصور کو پورا کر دیا تھا کہ جو محض سماعی شہرت کی پیروی سے عائد حال تھا۔ابتداء میں خداوند قادر مطلق کی ہستی کا پتہ اسی شے کے ذریعہ سے لگا ہے کہ جس میں اب بھی پتہ لگانے کی قدرت 32 مستقلہ حاصل ہے سو وہ قدرت مستقلہ صرف کلام الہی میں پائی جاتی ہے۔50 اس اقتباس کی روشنی میں اس سے پہلے دیئے گئے اقتباس میں مولوی عبد الحق صاحب بندوں کا احسان خدا تعالیٰ پر کرنا چاہتے ہیں کہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کا پتہ لگایا۔اور ان ہی امور کو سراہتے ہوئے مولانا مولوی محمد حبیب الرحمن خاں صاحب شروانی صدر یار جنگ بہادر سابق صدر الصدور سلطنت آصفیہ حیدر آباد دکن لکھتے ہیں مولوی صاحب (مولوی عبد الحق) کے دل میں مذہب کا کتنا گہر اعقیدہ اور ادب ہے۔۔۔” 51 اگر چہ اصل کتاب تو سامنے نہیں لیکن یہ مقدمہ یقین مولوی عبد الحق صاحب اور مولوی ظفر علی خان کے 1895ء میں تعلیم سے فارغ ہونے اور 1931ء کے درمیانی عرصے کا ہے جس سے مذکورہ تینوں اشخاص کی مذہب سے واقفیت کا علم ہو جاتا کیونکہ اس سے مذہب اسلام کے بارے میں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصحاب ہندوؤں کی طرح مادے کو ہی خدا سمجھتے ہیں۔جیسے کہ مولوی صاحب عبد الحق نے لکھا “ جب اس نے (یعنی انسان نے ) ایسے معلومات دیکھے جن کی علل کو وہ نہیں بتا سکا تو انہیں ایک ایسی قوت مختار سے منسوب کرنا جو مادے کے اندر اور باہر ہے بالکل جائز ہے۔یہی خدا کے خیال کی اصل ہے۔“ اور اسی طرح ہر دو مولوی ظفر علی خان اور مولوی حبیب الرحمن شروانی نے اس پر صاد کیا ہے ! اور پھر الزام دیتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے براہین احمدیہ کی تصنیف میں مولوی چراغ علی صاحب سے مددلی تھی جو سراسر دروغ بے فروغ ہے۔دراصل یہ لوگ صرف اسمی ور سمی مسلمان تھے 52" اس عنوان کو اگرچہ ہم نے مولوی چراغ علی صاحب کی تحریرات جو “ جوش اور حرارت سے عاری ہیں جیسے ایک سرد مہر منطقی کائیاں دنیا دار ہیں۔“ کو درج کر کے کیا تھا لیکن مولوی چراغ علی صاحب کی کتاب اعظم الکلام کے بارے میں آگے چل کر اس بیان کے خلاف مولوی عبد الحق صاحب لکھتے ہیں کہ : “ مولوی چراغ علی مرحوم نے یہ کتاب لکھی اور در حقیقت نہایت پر زور مدلل اور جامع کتاب لکھی۔کہیں اور کسی جگہ مولوی عبدالحق صاحب جس زور کو واضح کرنا چاہتے ہیں انہیں ڈرامے میں نظر آتا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں: “وہ تلواروں کا مقابلہ زبان سے اور نیزوں کا مقابلہ قلم سے کرتا ہے۔اور اپنے زور سے جدھر چاہتا ہے دنیا کو کھینچ لے جاتا ہے۔لیکن اسمیں بھی قسمیں ہیں اور درجے۔نظم ہے ، نثر ہے اور ان کی بھی بیسیوں قسمیں اور اس پر اپنی اپنی طبیعت اور اپنا اپنا دماغ۔لیکن ان سب میں موئثر اور کار گر اگر کوئی ہے تو ڈراما ہے۔جو دنیا کی مختلف حالتوں اور انسانوں کی مختلف کیفیتوں کو اس خوبی سے دکھاتا ہے کہ نقل میں اصل کا مزہ آجاتا ہے۔” 53 اسی طرح مزید لکھتے ہیں: “ جن باتوں کو ہم اپنی زبان یا صرف قلم اور فصاحت کے زور سے بار بار جتانا چاہتے ہیں وہ سب مر حلے ڈرامے کے ایک ایکٹ میں طے ہو جاتے ہیں۔54