براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 26
براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 26 ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ مولوی صاحب کا کتنا وقت اُن کی نذر ہوا کرتا تھا۔اُنہوں نے تحقیق کی طرف بھی توجہ کی اور تدوین کا کام بھی کیا۔لیکن بات وہی ہے کہ تحقیق، شرک کو گوارا نہیں کرتی۔۔۔اس کے لیے جس انہماک ، یک سوئی اور ڈوب جانے کی کیفیت کی ضرورت ہوتی ہے ، ہنگامہ آلو د زندگی اُس کے منافی ہے۔۔۔مولوی صاحب کے پاس اتنا وقت تھا ہی نہیں کہ وہ چھان بین کا حق ادا کر سکتے۔یہ بھی سنا گیا ہے کہ وہ اکثر دوسروں سے بھی اپنے کام میں مد دلیا کرتے تھے ، لیکن کتابوں پر نام انہیں کا ہوتا تھا۔جن متنوں پر اُن کا نام بہ حیثیت مدون درج ہے ، اُن میں آداب تدوین کی پابندی بہت کم نظر آتی ہے۔یہی حال تحقیقی مقالات کا ہے۔32 مولوی عبد الحق صاحب نے براہین احمدیہ کے معاملے میں بھی چھان بین کا حق ادا نہیں کیا اور دوسروں سے مدد لینے اور اپنے نام سے کتابیں شائع کروانے کا معاملہ تو خو د موصوف پر ثابت ہوتا ہے۔علاوہ محولہ اقتباس کے زیر نظر مضمون کے دیگر مقامات پر بھی مولوی عبد الحق صاحب کی اس پختہ عادت کے بارے میں اندراج کیا گیا ہے۔زیر نظر معاملہ میں موصوف کا تدلیس و تغلب تمام حدود کو پھلانگ گیا ہے۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ موصوف بڑی شرافت سے بات کر رہے ہیں لیکن اس کے مضمرات کی قلعی خصوصی و عمومی تقابلی مطالعہ میں بتفصیل کھول دی گئی ہے۔او پر درج کیے گئے عنوان کے تحت ذکر ہو رہا تھا براہین احمدیہ کے پر زور ہونے کا۔اور مولوی عبد الحق صاحب کو اس کا کیسے علم ہوا۔جو اُن کی علمی اور عملی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے سماعی ہی کہی جاسکتی ہے ورنہ موصوف اپنی بات کے ثبوت میں خود براہین احمدیہ سے اس کے ثبوت تلاش کر کے پیش کرتے۔لیکن وہ ایسانہ کر سکے اگر انہوں نے یہ بات علی وجہ البصیرت لکھی ہے تو انہیں اس کا ثبوت بھی دینا چاہیے تھا۔بہر کیف جو کچھ موصوف نے لکھا ہے اُس کے بارے میں ذیل میں لکھا جاتا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنے سے پہلے علماء اور فضلاء کے متعلق بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں: اکثر لوگ دلائل حقیقت اسلام سے بے خبر ہیں بڑے بڑے شرفاء کے بیٹے میں نے اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں جو باعث بے خبری دینی کے اصطباغ پائے ہوئے گر جاگھروں میں بیٹھے ہیں۔اگر فضل عظیم پروردگار کاناصر اور حامی اسلام نہ ہوتا اور وہ بذریعہ پر زور تقریرات اور تحریرات علماء اور فضلاء کے اپنے اس سچے دین کی نگہداشت نہ کرتا تو " 33 “ وہ کتا بیں خاص خاص فرقوں کے مقابلہ پر بنائی گئی ہیں اور اُن کی وجوہات اور دلائل وہاں تک ہی محدود ہیں جو اُس فرقہ خاص کے ملزم کیلئے کفایت کرتی ہیں۔لیکن یہ کتاب (یعنی براہین احمدیہ ) تمام فرقوں کے مقابلہ پر حقیقت اسلام اور سچائی عقائد اسلام کی ثابت کرتی ہے اور عام تحقیقات سے حقانیت فرقان مجید کو بپایہ ثبوت پہنچاتی ہے۔۔34 یہاں بے جانہ ہو گا کہ مولوی عبد الحق صاحب کی تحریرات میں سے بھی کچھ لفظ پر زور کے بارے میں جان لئے جائیں۔موصوف اعظم الکلام۔۔۔کے مقدمہ میں ہی مولوی چراغ علی کے متعلق لکھتے ہیں: