براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 25
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام نے دو ہر امعیار قائم کیا ہے !) اس کے بعد مولوی صاحب موصوف لکھتے ہیں: 25 اصل یہ ہے کہ ترجمہ ان دو میں سے کوئی بھی نہیں فارسی قصے کو اپنی اپنی زبان مین بیان کر دیا ہے۔لیکن جہاں کہیں نو طر ز مرضع، اور فارسی کتاب میں اختلاف ہے “باغ و بہار ” میں نو طر ز مر ضع کا اتباع کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”باغ و بہار جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے ، فارسی میں قصے کا ترجمہ نہیں بلکہ اس کا اخذ نو طر ز مرضع ” ہے۔بعض مقامات پر تو الفاظ اور جملے کے جملے وہی دیئے ہیں، جو نوطرز مرضع ” میں ہیں۔اب چند مقامات ملاحظہ ہوں: بادشاد آزاد بخت راتوں کو قبور کی زیارت کرنے جاتا تھا ایک روز اس سیر میں اس کی چار درویشوں سے مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے۔اس کا ذکر فارسی کتاب میں اس طرح ہے کہ “ دور سے روشنی دکھائی دی۔بادشاہ نے دل میں کہا کہ کوئی آوارہ وطن غریب یا ستم رسیدہ بے کس یا صاحب دل درویش ہو گاور نہ ایسے مکان میں بسر کرنا دوسرے کا کام نہیں۔اصل فارسی عبارت یہ ہے : تا در میان قبرستان نظرش چار طاقے افتاد که روشنی چراغ دور می نمود۔بادشاه با خود گفت که البته دراں مکان غریبے از وطن آوارہ یا بے کسی ستم رسیده یا بچاره از حادثات فلکی به جان آمده یا درو بیش از خلق کنار گرفته یا صاحب ولی به ارواح اہل قبور کسے یافتہ خواہد بود والا در چنین مکان بسر بردن کار دیگرے نیست۔" اب “نو طر ز مرضع ” کا یہی مقام ملاحظہ کیجئے: “ اس عرصہ میں فرخندہ سیر کے تئیں دور سے بہ فاصلہ فرسنگ کے ، ایک چراغ نظر آیا۔لیکن باوصف استبداد بادِ صر صر کے زنہارِ استعالہ چراغ کے تئیں سر موحرکت نہ تھی۔بادشاہ نے اول خیال کیا کہ طلسم شیشہ نمائی کا ہو گا یعنی اگر پھٹکری کو گر دفتیلہ چراغ کے چھڑک دیجئے تو کیسی ہی ہوا چلے چراغ گل نہ ہو۔" میر امن اسی مقام کو یوں لکھتے ہیں: ایک بارگی بادشاہ کو دور سے ایک شعلہ سا نظر آیا کہ مانند صبح کے ستارے کے روشن ہے۔دل میں اپنے خیال کیا کہ اس آندھی اور اندھیرے میں یہ روشنی خالی از حکمت نہیں۔یا یہ طلسم ہے کہ اگر پھٹکری اور گندھک کو چراغ میں بتی کے آس پاس چھڑک دیجئے تو کیسی ہو اچھلے چراغ گل نہ ہو گا۔" ان تینوں عبارتوں کا مقابلہ کیجیے ، فارسی اور اردو، میں خاصا اختلاف ہے، لیکن نو طر ز مرضع ” اور “باغ و بہار " کی عبارتیں کس طرح ملتی جلتی ہیں۔دونوں کی آخری سطر میں دیکھئے ، ایک ہی بات اور ایک ہی لفظ ہیں۔گویا ایک نے دوسرے کی کتاب سامنے رکھ کر لکھی ہے۔" 31 لیکن یہ طرز عمل مولوی عبد الحق صاحب نے براہین احمدیہ کے سلسلہ میں نہیں اپنایا۔کیونکہ بقول رشید حسن خان شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی۔انڈیا ( موصوف ادبی تحقیق کے سلسلے میں لکھتے ہیں ): ان کا (مولوی عبد الحق صاحب کا) بیش تر وقت انجمن کے تنظیمی کاموں میں اور اُردو کے سلسلے میں مدافعت و مقابلے میں صرف ہوا کرتا تھا۔اُس زمانے کے ہنگامے جو اُردو ہندی کے نام سے برپا ہوتے رہتے تھے، اُن پر نظر