براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 27 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 27

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام “ان کی تحریر میں گر می نہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ سرد مہر منطقی ایک ایسے مبحث پر جس سے اُسے دلچسپی ہے بحث کر رہا ہے اور واقعات اور دلائل و براہین پیش کر کے بال کی کھال نکال رہا ہے۔حال آں کہ مذہب کو منطق و استدلال سے اتنا تعلق نہیں جتنا کہ انسان کے جذبات لطیفہ یا وجد ان قلب سے ہے اس لیے مذہب پر بحث کے لیے ضروری ہے کہ انسان رسمی قیود سے بالکل باہر نکل کر نظر ڈالے اور اس میں وہ جوش اور حرارت ہو جو ایک سرد مہر منطقی یا ایک کائیاں دنیا دار میں نہیں ہو سکتی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب مرحوم کو نہ تو مذہب کے اس حصے سے بحث تھی اور نہ وہ غالباً اس بحث کے اہل تھے بلکہ ان کا مقصد مذہب کے صرف اس حصہ سے تھا جس کا تعلق امور دنیا سے ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مذہب اسلام کس طرح انسان کی دنیاوی ترقی کا حارج نہیں بلکہ اُس کا ممد و معاون ہے جو لوگ اس کے مخالف ہیں وہ غلطی پر ہیں اور کچھ شک نہیں کہ اس میں مولوی صاحب کو پوری کام یابی حاصل ہوئی ہے۔" 35 27 نامعلوم مولوی عبد الحق صاحب نے یہ کہاں سے معلوم کر لیا کہ مذہب کو منطق و استدلال سے اتنا تعلق نہیں ” پھر کتنا تعلق ہے ؟ اتنے " کی کوئی حدوبست تو قائم کی ہوتی۔اوپر لکھتے ہیں کہ جتنا کہ انسان کے جذبات لطیفہ یا وجدانِ قلب سے ہے۔گویا مذ ہب غیر منطقی یا غیر مدلل ہے؟ یہاں گویا جذبات لطیفہ یا وجد ان قلب کو فوقیت دے رہے ہیں اور منطق و استدلال جو مذہب سے متعلق ہے اُسے کمزور بنا رہے ہیں۔جبکہ منطق ایک نہایت اہم علم ہے۔جس کو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود نے اپنے مخالفین کے خلاف براہین احمدیہ میں استعمال فرمایا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم بھی منطقی استدلال فرماتا ہے۔یہاں نمو متہ درج کیا جاتا ہے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جو دلیل دی ہے اس کو منطق کی اصطلاح میں REDUCTION ABSORDUM کہتے ہیں۔۔۔b وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرِي عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعِي إِلَي الْإِسْلَامِ وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْظُّلِمِيْنَ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِةَ الْكَافِرُونَ ترجمہ : اور اُس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا خواہ کا فر (لوگ) کتنا ہی نا پسند کریں۔یعنی ایک ایسے مفروضے سے جو غلط یاABSURD ہو ، جب نتیجہ نکالا جائے تو وہ لازماً غلط ہو گا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مفروضہ سے نتیجہ نکالا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔اس کا غلط ہونا بھی ثابت ہے۔دلیل یہ ہے کہ PREMISES 1 کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باند ھے۔2 اور وہ ایسا شخص ہو جس کو یہ دعوت دی جاتی ہو کہ وہ جھوٹ چھوڑ کر اسلام قبول کر لے۔3 حضرت مرزا صاحب نے نعوذ باللہ خدا پر جھوٹ باندھا کہ مجھے وحی ہوئی۔