براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 24 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 24

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 2-7 - فقرہ مشہور اور پر زور کتاب براہین احمدیہ بیان کردہ مولوی عبد الحق صاحب کا محاکمہ مولوی عبد الحق صاحب مقدمہ “ اعظم الكلام في ارتقاء الاسلام ” (حصہ دوم) میں لکھتے ہیں: جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم مولوی چراغ علی) کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پر زور کتاب براہین احمدیہ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔" 29 خطوط کا اندراج کرنے کے بعد مولوی عبد الحق صاحب لکھتے ہیں:۔ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔" 30 24 ، بعض مضامین جن کا اندراج مولوی عبدالحق صاحب کے مقدمے میں درج کئے گئے خطوط میں ہوا ہے اُن کا موضوع وار تفصیلی جائزہ زیر نظر کتاب کے باب ششم میں ملاحظہ ہو۔جس سے مولوی عبد الحق صاحب کا استنباط نتائج کا صریحاً غلط اور بلا دلیل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات کا شائبہ تک نہیں ہے۔مولوی عبد الحق صاحب ایسے گھاگ آدمی سے اس بات کی قطعا توقع نہیں کی جاسکتی کہ پہلے وہ یہ درج کریں کہ : خطوط (سے) اپنی مشہور اور پر زور تالیف میں مدد طلب کی تھی۔" اور آخر پر لکھ دیا کہ: “ ان تحریروں (یعنی مخطوط ) سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے۔تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔" اس بات سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ مولوی عبد الحق صاحب نے صرف خطوط کے الٹ پھیر پر اکتفا کیا ہے لیکن کتاب براہین احمدیہ کے مضامین کو دیکھنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کی ہے۔جس کا ثبوت او پر درج کیے گئے موضوعات سے دیا جا چکا ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب کو براہین احمدیہ کے پر زور ہونے کا علم کیونکر ہو گیا ؟ ایسے لگتا ہے کہ یہ امر مولوی صاحب موصوف کو تالیف مذکور کے مشہور ہونے کی وجہ سے ہی ہو ا ہو گا۔نہ کہ مطالعے سے ! اگر مطالعہ کرتے تو موصوف خطوط کے ساتھ تالیف براہین احمدیہ کے متعلقہ مقامات کی جن سے موصوف اپنے سوچے گئے نتائج نکالنا چاہتے تھے اُن کا حوالہ ضرور درج کرتے جیسا کہ مولوی عبد الحق صاحب مقدمہ باغ و بہار ” میں اس کے ماخذ نوطرز مرضع ” کو ثابت کرتے ہیں۔مولوی صاحب موصوف لکھتے ہیں: فارسی اور “نوطرز مرضع " کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ “باغ و بہار ” فارسی کتاب کا ترجمہ نہیں بلکہ اس کا مآخذ “نوطرز مرضع ” ہے۔تعجب اس بات کا ہے کہ میر امن نے فارسی کتاب اور اس کے ترجمے کا تو ذکر کیا مگر نو طر زمر ضع کا ذکر صاف اُڑاگئے (نوٹ از راقم الحروف: جیسے کہ خود مولوی عبدالحق صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے خطوط کا تو ذکر کیا ہے لیکن خطوط میں محولہ مقامات کا تقابل مولوی چراغ علی کی تحریرات سے درج کر ناصاف اُڑا گئے ہیں !!؟ ) اسی تسلسل میں مولوی عبد الحق صاحب مزید تحریر کرتے ہیں: “ اب میں تینوں کتابوں سے بعض مقامات کا مقابلہ کر کے دکھاتا ہوں جس سے میرے بیان کی پوری تصدیق ہو گی (نوٹ از را قم الحروف: لیکن مولوی عبدالحق کے حضرت مرزا صاحب کے بارے میں بیان کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کیونکہ کتمان حق کیلئے موصوف