براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 23
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 23 اس ترجمے میں مولوی عبد الحق صاحب نے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جس سے مولوی چراغ علی کے انتہاء پسند انہ خیالات کو چھپایا جا سکے اور بڑے ہی نرم الفاظ میں ترجمہ کر کے مولوی چراغ علی کے اس کڑوے کسیلے رویے کو اردو قارئین تک نہیں پہنچنے دیا جسے ایک علمی بد دیانتی سے کم تر کیا قرار دیا جائے یا مولوی عبد الحق صاحب کے اپنے ممدوح کے بارے میں خواہ مخواہ کی تعمیر شدہ عمارت کے تحفظ سے زیادہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔بہر کیف اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب عزیز احمد صاحب پروفیسر اسلامک سٹڈیز یونیورسٹی آف ٹورنٹو اپنی کتاب مطبوعہ 1967ء آکسفورڈ یونیورسٹی پریس (لندن، بمبئی، کراچی) زیر عنوان Islamic Moderanism in India and ' 1857-1964 Pakistan کے صفحہ 59 پر لکھتے ہیں کہ:۔This unrestrained enthusiasm for pseudo- historical exegetical trend had serious dangers۔For example, at least in one place Chiragh Ali has quite unconsciously regarded the Quran not as the divine word but the work of Muhammad۔'But the final and effectual step taken by Muhammad towards the abolition of this leading vice (polygamy) of the Arab community was his declaring in the Koran that nobody could fulfil the condition of dealing equitably with more than one woman۔……۔۔۔(The proposed Political, legal and social Reforms in the Ottomon Empire ( 1883) مولوی عبد الحق صاحب نے ترجمہ ہی دوسرے انداز سے کیا اور عزیز احمد اسے اگر چہ طشت از بام لاتے ہیں مگر نام دیتے ہیں غیر ارادی عمل کا کہ ان کے نزدیک (یعنی مولوی چراغ علی کے نزدیک قرآن کلام الہی نہیں بلکہ حضرت محمد صلی علیم کا ہی کام ہے۔بہر حال ان خیالات کے حامل شخص مولوی چراغ علی کو ، مولوی عبدالحق، حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بالمقابل پیش کرنا چاہتے تھے۔غالب زیر بحث خطوط سے استخراج نتائج مولوی عبد الحق صاحب کی شعوری کوشش ہے جیسے کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔یہ مولوی عبد الحق صاحب کی علمی بد دیانتی کی ایک بدترین مثال ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب جان بوجھ کے مولوی چراغ علی کے متشد دانہ خیالات پر پر دوڈالنا چاہتے ہیں کہ تاجس بلند کردار کی منظر کشی انہوں نے اپنے مقدمے “اعظم الكلام۔۔” میں مولوی چراغ علی کے بارے میں کی ہے وہ قائم رہے !!! مولوی عبد الحق صاحب غلط ترجمہ کرنے کی بجائے اور راہ بھی اختیار کر سکتے تھے یعنی درست ترجمے کے ساتھ ایک فٹ نوٹ دے دیتے کہ اگرچہ ترجمہ تو اس کا وہی ہے جو درج کیا گیا مگر یہ ان کی ایک غیر ارادی غلطی ہے۔اس انصاف پسندانہ اقدام سے گریز کر کے مولوی عبد الحق صاحب نے اپنے دامن پر جو داغ لگایا ہے اس سے ان کا علمی و اخلاقی مرتبہ ثقاہت کے معیار سے گر گیا ہے۔شاید مولوی عبد الحق صاحب نے ایسا اس لئے کیا ہو کہ بقول سرسید احمد خان “میری رائے میں اس کا اردو میں چھپنا مناسب نہیں ہے۔لوگ اس کا مطلب اور مقصد سمجھنے کے نہیں اور الٹے اور مخالف معنے لگا دیں گے۔28 اسی لئے مولوی عبد الحق صاحب نے یہاں صحیح ترجمے کو چھپا دیا ہے جو کسی صورت میں قابل ستائش نہیں ہے۔علاوہ ازیں مولوی عبد الحق صاحب المعروف بابائے اردو کی کتاب “ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام " ( ریفارمز انڈر مسلم رول) مصنفہ مولوی چراغ علی صاحب کے ترجمے میں مولوی عبد الحق صاحب کی تحریف و تدلیس کے نمونے ملاحظہ ہوں۔راقم الحروف کے مضمون مطبوعہ "جریدہ" 2005-33ء کراچی یونیورسٹی