براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 22 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 22

22 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام انسانی فطرت کو غائر نظر سے دیکھنے والے تھے۔26 ہتھور تھ ویٹ Every thing about Professor Hairat was a grand scale, his mind, his of observation, his generosity were all of an power his memory, uncommon order, Money was to him as worthless as dust, and he valued it only as a means of helping others and releiving suffering۔He had a lofty ideal of duty and never spared himself when duty demanded exertion of or sacrifice۔He was tolerant of every thing except falsehood, hypocrasy and meanness and was at the same time an ideal philosopher and shrewd observer of human nature۔27 یہ صرف ایک مضمون ہے اور بہت چھوٹا سا مضمون ہے۔کوئی بڑی کتاب نہیں ہے، مگر اقدام بہت بڑا ہے۔اور بہت برا ہے۔مولوی عبد الحق صاحب کی سطور بالا میں درج علمی بد دیانتی کے چند نمونے دیکھ کر مولوی عبد الحق صاحب کی بات ویسے ہی پایہ اعتبار سے گر جاتی ہے اور جس شخصیت کو مولوی عبد الحق صاحب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بالمقابل پیش کرتے ہیں وہ بھی کب اس معیار کی ہے کہ اس کو موصوف کے سامنے رکھا جائے۔مولوی چراغ علی صاحب کے بارے میں زیر نظر کتاب کے باب سوم اور بہت سارے مقامات پر تبصرہ جو ان پر اہل علم نے کیا ہے درج کر دیا گیا ہے جس سے ان کا مقام بھی نظروں سے گر جاتا ہے جس پر مولوی عبد الحق صاحب انہیں فائز کرنا چاہتے ہیں۔وو 2-6- “ اعظم الکلام۔۔" مصنفہ مولوی چراغ علی کے ترجمے میں مولوی عبد الحق کی تحریف مولوی چراغ علی نے اپنی کتاب 'The proposed Political, legal and social Reforms' کے صفحہ 128 پر لکھ لکھا:۔'105۔The Koranic injunctions about this is found in sura iv-3 and 128 (vide Paras 93 and103) But the final and effectual step taken by Muhammad towards the abolition of this leading vice of the Arab community was his declaring in the Koran that no body could fulfil the condition of dealing equitably with more than one woman, though he 'fain would do so'۔متر جم چراغ علی، مولوی عبد الحق صاحب اس عبارت کا ترجمہ یوں درج کرتے ہیں:۔105۔قرآن میں اس کی تاکید ( النساء 4۔آیت 3 اور 128) میں پائی جاتی ہے لیکن آخری اور قطعی تدبیر جو آنحضرت صلعم نے اہل عرب کی سب سے بڑی رسم کو اٹھا دینے کے متعلق اختیار کی وہ قرآن کا یہ ارشاد تھا کہ خواہ انسان کتنا ہی چاہے وہ ایک سے زیادہ بیبیوں میں عدل نہیں کر سکتا۔(النساء 4۔آیت 128) (صفحہ 23-24)