براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 21 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 21

21 براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام to Professor Hairat on his mother side and was Persian minister of foreign affairs in the time of Fath Ali Shah۔23 اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب اُردو کے اچھے مترجم بھی ہیں، وہ اپنی زبان کے محاورے اور روز مرہ کا بڑا خیال رکھتے ہیں اور ترجمے پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو حالات زندگی ہیں اور اس میں ادبی سرقے کی کیا بات ہے۔مگر حالات زندگی کے اخذ کرنے میں بھی حوالے کی ضرورت ہے۔لیجئے دو اقتباسات اور ملاحظہ کیجئے جن میں حالات نہیں بلکہ تبصرہ ہے جو اصل مضمون نگار کے اپنے تاثرات ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب ان کا علم اس قدر وسیع اور ان کا حافظہ اس قدر قوی تھا کہ اگر حافظ اور سعدی کی تصانیف دنیا سے مٹ جائیں تو وہ صرف اپنے حافظے کے زور سے بلا کم و کاست پھر پیدا کر سکتے تھے۔ان کو اساتذہ کے ہزار ہا عربی اور فارسی اشعار یاد تھے اور موقع پر بلا تامل سینکڑوں اشعار پڑھتے چلے جاتے تھے۔عربی و فارسی انشا پردازی میں وہ عدیم النظیر تھے۔24 ہتھور تھ ویٹ His knowledge was so great and memory so accurate and retentive that, if the whole work of Hafiz and Sa,di had been lost, he could at once have recovered them and written them down fault lessly from recollection and he could repeat many thousands of lines of all classical poet of Arabia and Persia without mistake and without any apparent effort, while his power as a writer of classical Arabic or Persian was Said to be unrivalled۔25 دونوں مضامین کو مکمل طور پر یوں پیش کرنا کہ دونوں آمنے سامنے رکھے ہوں ہمارے لئے ممکن نہیں۔تاہم ایک اور اقتباس آپ کی نذر ہے۔ان چند کلیوں سے گلستان کا اندازہ کر لیجئے۔مولوی عبد الحق صاحب مرزا حیرت کی ایک ایک چیز اعلیٰ درجے کی تھی۔ان کا دماغ، ان کا حافظہ ، ان کی قوت مشاہدہ، ان کی فیاضی سب کچھ غیر معمولی تھی۔ان کی نظروں میں روپے کی حقیقت خاک دھول کے برابر تھی۔سوائے اس حالت کے کہ وہ کسی بیکس مظلوم کی امداد میں خرچ کرتے انہیں اپنے فرائض منصبی کا بہت بڑا خیال تھا اور اپنے فرض کے ادا کرنے میں اپنی صحت تک کی بھی پروانہ کرتے تھے۔وہ ہر ایک چیز سے در گزر کر سکتے تھے مگر جھوٹ، ریا اور دنائت کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔وہ ایک بڑے فلاسفر اور