براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 20 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 20

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 20 کا قدر دان تھا اس نے مرزا حیرت کے حالات جمع کئے تھے۔اور وہ مضمون بمبئی کے ڈائریکٹر محکمہ تعلیمات کی رپورٹ برائے (1899ء 1898ء) میں ضمیمے کی صورت میں شائع کیا گیا تھا۔پھر 1935ء میں پروفیسر شیخ عبد القادر نے مرزا حیرت کی زندگی پر انگریزی اور فارسی میں ایک مختصر سی کتاب شائع کی تو اس میں بھی اس مضمون کو شامل کیا اور اس چھوٹی سی کتاب کا انگریزی نام : A short History of Late Professor Mirza Hairat رکھا اور فارسی میں مختصری از حالات پروفیسر مرزا حیرت طاب ثراہ یہ چھوٹی سی کتاب بمبئی کے “المبطبئہ القیمہ ” نے چھاپی تھی اور وہی اس وقت ہمارے سامنے ہے۔مولوی صاحب نے پر نسپل ہتھور تھ ویٹ کے مضمون سے صرف مرزا حیرت کے حالات ہی نہیں لئے بلکہ پورا مضمون اُردو میں منتقل کر کے اپنا لیا اور کہیں اس کا تذکرہ نہیں کیا۔عبارت مولوی عبد الحق صاحب وہ صحیح النسب سید تھے مگر تعجب ہے کہ وہ ہمیشہ اسے چھپاتے رہے۔وہ 1837ء میں پیدا ہوئے ( یعنی جس سال ملکہ معظمہ وکٹوریہ تخت نشین ہوئیں) ان کا خاندان ایران میں بہت شریف اور نامور تھا۔شاہان صفویہ کے زمانے میں سیاسی ( پولیٹکل انقلابات کچھ ایسے واقع ہوئے کہ اس خاندان کے دو حصے ہو گئے ایک تو اصفہان میں جا بسا۔اس خاندان میں کئی شخص علم و فضل اور تدبیر سلطنت میں بہت نامور گزرے ہیں چنانچہ مرزا حیرت کے پردادا مرزا جعفر کریم خان بانی خاند ان شاہانِ زند کے وزیر اعظم تھے۔اور ان کے ایک اور بزرگ عبد الباقی شاعر اور طبیب گزرے ہیں۔اس زمانے کے مشہور و معروف شاعر معتمد الدولہ ا المتخلص بہ نشاط ، ماں کی طرف سے ان کے عزیز ہوتے ہیں۔وہ فتح علی شاہ کے زمانے میں وزیر امور خارجہ تھے۔22 He was a lincal descendent of the prophet, a fact which he always endeavoured to conceal, and was born in 1837, his family was noble and enjoyed great consideration in Persia۔In the time of Safawian dynasty political vicssitudes divided the family into two parts, one of which settled in Isfahan while the other migrated to Tehran۔It produced several persons renowned for learning being Mirza Jaafar, Professor Hairat's great grand father (Sic: ground falha) who was prime minister of Karim Khan, the founder of his Zand family of Persian KINGS, which a remote ancester was Abd-ul-Baqi, a poet and physician and the well-known poet, Mu,tamad-ud-Doala, known also and better by his takhallus ( non de plume) of nashat, was related