براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 19 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 19

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 19 مولوی صاحب مرحوم کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیں گے اور انجمن کے ان کارکنوں کو تنبیہ فرمائیں گے جو اس قسم کی جھوٹی خبریں شائع کرا کے مقتدر انجمن اور خود ڈاکٹر صاحب کی ذات گرامی صفات کو بد نام کرنا چاہتے ہیں۔” 21 اس کے بعد محترمہ سلمی حقی صاحبہ نے شاہد احمد دہلوی کے اداریہ کی تائید میں متعدد اہل قلم و علم حضرات کی آراء اس امر کی تائید میں درج کیں ہیں۔جن میں مولو نا عبد الماجد دریابادی لکھنو، ملا واحدی، خواجہ محمد شفیع اور اخلاق احمد دہلوی شامل ہیں جن سے لغت کبیر کی ترتیب کا مسئلہ بالکل آئینہ ہو جاتا ہے۔پھر مولوی عبد الحق صاحب کے پندرہ خطوط دیئے ہیں جن سے بھی لغت کبیر کا کریڈٹ مولوی احتشام الدین کے حق میں ثابت ہے اور آخر میں مولوی عبد الحق صاحب کے دو خطوط کے چربے دیئے ہیں جو انہوں نے مولوی احتشام الدین کو اور تنگ آباد دکن اور دریا گنج دہلی سے لکھے تھے۔جن سے مولوی احتشام الدین کی اردو لغت کبیر کی ترتیب مزید پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے۔مولوی عبد الحق صاحب نہ صرف دوسروں کی کتابیں اپنے نام سے شائع کر لیتے تھے بلکہ دوسروں کے انگریزی مضامین کا اُردو ترجمہ کر کے لکھنے والے کا ذکر تک نہیں کرتے تھے۔اُس کی ایک مثال سید ابوالخیر کشفی کے مضمون: ڈاکٹر مولوی عبد الحق پرنسپل میتھور تھے ویسٹ " جو شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی کے رسالہ “ جریدہ ” کے شمارہ نمبر 27 اشاعت 2004ء میں نکلا ہے۔اس کا ایک حصہ درج کیا جاتا ہے (جریدہ کے اسی شمارہ میں مشفقی خالد جامعی صاحب نے ممتاز الافاضل کا ایک مضمون حضرت مرزا صاحب کے خلاف درج کیا ہے جو حسن مثنیٰ ندوی نے اپنے نام اپنا لیا ہے (پھر سرقہ کس کانام ہوتا ہے؟) جو افسانوی قصوں مقامات حریری اور ہمدانی کے حوالے وغیرہ سے درج ہے۔بھلا افسانوی قصوں اور قرآنی حقائق و معارف کا کیا جوڑ ہے ؟ بازار میں بہت سے قصے کہانیاں بکتی ہیں ان سے اب بھی معترضین تفسیر قرآن بالمقابل حضرت مرزا صاحب بنالیں جو پہلے بھی نہیں بنا سکے۔بہر کیف اس کا جواب ایک الگ مضمون میں دیا جائے گا۔انشاء اللہ مشفقی موصوف اس ناچیز کو بلا استحقاق اپنی مطبوعات بھجواتے ہیں۔یہ آپ کی ہی عنایت تھی میرا مضمون جریدہ 33 میں شائع کیا گیا جو یونس جاوید صاحب اور احمد ندیم قاسمی صاحب کی چچ کی وجہ سے “صحیفہ ” میں نہ چھپ سکا۔سویرا کے محمد سلیم الرحمن صرف اتنا کہہ کے رہ گئے کہ کس تحقیقی رسالے میں زیادہ موزوں ہو گا۔اسی طرح ڈاکٹر مبارک علی صاحب سہ ماہی تاریخ میں اس لئے نہ چھاپ سکے کہ ان کی مجبوریاں ہیں لیکن اس کے چھپنے پر اتفاق کرتے تھے۔):۔“ اس وقت نظروں کے سامنے چند ہم عصر کا دوسرا ایڈیشن ہے جو 1942ء میں دہلی سے شائع ہوا تھا۔مرزا حیرت دہلوی پر مولوی صاحب کے اس مضمون کے پہلے ہی پیراگراف کے آخر میں یہ الفاظ درج ہیں: “ایسے ہی لوگوں میں مرزا حیرت پر وفیسر انفسمٹن کالج بمبئی تھے جن کے مختصر حالات ہم اس وقت لکھنا چاہتے ہیں۔" ان الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ مولوی صاحب نے اس مضمون کو طبع زاد قرار دیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ مضمون انگریزی زبان سے لفظاً لفظاً ترجمہ ہے ، پہلا پیرا گراف اور آخر میں چند جملے اور اشعار ضرور مولوی صاحب نے بڑھائے ہیں۔مگر بعد کے ایڈیشنوں میں بھی مولوی صاحب نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ یہ مضمون ان کا نہیں کسی اور کا ہے۔انفسٹن کالج بمبئی کے پرنسپل، پروفیسر مرزا حیرت کے زمانے میں ایک انگریز ہتھور تھ ویٹ Hathoruth Waite تھا، وہ علم واہل علم