براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 10 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 10

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام۔25", 10 “شاید آپ (یعنی سرسید - ناقل) کے دل میں یہ عذر بھی مخفی ہو کہ اس نئے فلسفہ کے طوفان کے وقت اسلام کی کشتی خطرناک حالت میں تھی۔اور گو وہ کشتی جواہرات اور نفیس مال و متاع سے بھری ہوئی تھی مگر چونکہ وہ تہلکہ انگیز طوفان کے نیچے آگئی تھی اس لئے اس ناگہانی بلا کے وقت یہی مصلحت تھی اور اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ کسی قدر وہ جواہرات اور نفیس مال کی گٹھڑیاں دریا میں پھینک دی جائیں اور جہاز کو ذرا ہلکا کر کے جانوں کو بچا لیا جائے لیکن اگر آپ نے اس خیال سے ایسا کیا تو یہ بھی خودروی کی ایک گستاخانہ حرکت ہے۔جس کے آپ مجاز نہیں تھے۔اس کشتی کا ناخدا خدا وند تعالیٰ ہے نہ آپ۔وہ بار بار وعدہ کر چکا ہے کہ ایسے خطرات میں یہ کشتی قیامت تک نہیں پڑے گی اور وہ ہمیشہ اس کو طوفان اور باد مخالف سے آپ بچاتا رہے گا۔جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الجرع 1) یعنی ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کو بچاتے رہیں گے۔سو آپ کو چاہیئے تھا کہ آپ اس ناخدا کی غیبی ہدایت کی انتظار کرتے اور دلی یقین سے سمجھتے کہ اگر طوفان آگیا ہے تو اب اس ناخدا کی مدد بھی نزدیک ہے جس کا نام خدا ہے جو مالک جہاز بھی ہے اور ناخدا بھی۔پس ایسی بے رحمی اور جرات نہ کرتے اور آپ ہی خود مختار بن کر بے بہا جواہرات کے صندوق اور زر خالص کی تھیلیاں اور نفیس اور قیمتی پارچات کی گٹھڑیاں دریا میں نہ پھینکتے۔خیر ہرچہ گذشت گذشت۔اب میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں اور بشارت پہنچاتا ہوں کہ اس ناخدا نے جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔زمین کے طوفان زدوں کی فریاد سن لی اور جیسا کہ اس نے اپنی پاک کلام میں طوفان کے وقت اپنے جہاز کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ پورا کیا۔اور اپنے ایک بندہ کو یعنی اس عاجز کو جو بول رہا ہے اپنی طرف سے مامور کر کے وہ تدبیریں سمجھا دیں جو طوفان پر غالب آویں اور مال و متاع کے صندوقوں کو دریا میں پھینکنے کی حاجت نہ پڑے۔" 1-10 - حضرت مرزا صاحب کا شردھے پر کاش دیوجی برہمو اور پادری ٹامس باول کی کتابوں سے موید اقتباس کا اپنی کتب میں اندراج پر اظہار ممنونیت اگر براہین کی تصنیف میں کسی شخص کی قلم اور دماغ نے کچھ بھی مدددی ہوتی آپ نہایت فراخدلی سے اس کا اعتراف کرتے یہ آپ کی سیرت ( کیریکٹر ) کا ایک بہت ہی نمایاں پہلو ہے کہ آپ نے جب بہ حیثیت مصنف کسی دوسرے اہل قلم کی تحقیقات اور کوشش سے استفادہ کیا یا اپنے بیان اور تحقیقات کی تائید میں بطور موید پیش کیا تو اس کے نام کا شرح صدر سے اظہار کیا اور اس کی محنت کی داد دی اور ایسے وقت میں جب آپ کے لاکھوں مرید تھے طبعی طور پر انسان ایسے حالات میں جبکہ اس کے ارد گرد عقید تمندوں کی بہت بڑی جماعت ہو اپنی وضعداری کے خلاف سمجھتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی تصنیف و تالیف سے کچھ لے اور اس کا اقرار کرنے کی جرات کرے۔یہ اخلاقی کمزوری ہے جو خود غرض مصنفین میں پائی جاتی ہے لیکن جو خدا کی طرف سے کھڑے ہوتے ہیں وہ اس عیب سے پاک ہوتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے جب کتاب چشمہ معرفت ” لکھی اور یہ 1908ء کا واقعہ ہے۔یہ آپ کی وفات سے تقریباً دو ہفتہ پیشتر شائع ہوئی آپ نے “چشمہ معرفت ” میں شردھے پر کاش دیوجی برہمو کی کتاب “ سوانح عمری حضرت محمد صاحب مصلی ام) سے کچھ اقتباس لیا۔اور نہایت مسرت کے جذبات کے ساتھ اس کا اعتراف کیا اور کتاب کے لئے جماعت کو سپارش بھی فرمائی۔20 اسی طرح ایک دفعہ آپ نے ہندو اور آریہ کی بحث کے سلسلہ میں پادری ٹامس ہاول ( جو اسلام کا بہت ہی خطرناک دشمن تھا) کے ایک مضمون کو اپنی ایک تصنیف کے حاشیہ میں دیا اور اس کا اعتراف کیا۔ان حالات میں حضرت مرزا صاحب کے طریق عمل کے بھی یہ خلاف تھا کہ اگر آپ کسی سے کوئی مدد لیتے تو اس کا اعتراف نہ کرتے اس لئے یہ تو صریح غلطی اور خلاف واقعات ہے کہ آپ نے مولوی چراغ علی صاحب سے کوئی امداد لی۔البتہ ان مکتوبات سے ایک امر پر ضرور روشنی پڑتی ہے کہ آپ کو آنحضرت صلی علیم کی عظمت و جلال اور