براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 9
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام بات نہیں پائی جاتی۔حضرت مرزا صاحب نے کسی نئی بات کا دعوی ہی نہیں کیا بلکہ لکھا ہے:۔وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار آپ کی باتیں وہی ہیں جو قرون اولیٰ میں جلوہ فگن تھیں مگر مرورِ زمانہ سے ذہنوں سے محو ہو گئیں گویا دفن ہو گئیں اور حضرت مرزا صاحب نے ان تمام امور کو نئی جلاء بخش کر پیش کر دیا۔جس کی زمانہ کو ضرورت تھی اور اب ان کی شان پہلے سے بڑھ کر ہے۔ایک اجمالی تفصیل پیش خدمت ہے:۔آیات قرآنیہ جن سے آپ نے قرآن اور صدق رسول کریم صلی للی کم پر استدلال کیا ہے ان کی تعداد 104ء آیات قرآنیہ کی تفسیر مکمل سورتوں کی تفسیر صداقت اسلام کے بارے میں تمہیدات عدد 11 عدد 3 عدد 8 عدد اسلام کے مخالفین کے وساوس کے جوابات منکرین اسلام کے اوہام کا ازالہ الہام اور قرآن کریم اور رسول کریم صلی الہ وسلم کی مدح میں منظوم کلام جو سینکڑوں اردو، فارسی اشعار پر مشتمل ہے وہ بھی دلائل ہی ہیں آپ نے جو رویاء بیان کئے آپ نے جو کشوف بیان فرمائے اس کتاب کے اصل متن پر حاشیوں کی تعداد 14 عدد 6 عدد 21 عدد 10 عدد 7 عدد 11 عدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر جو الہامات حضرت رسول کریم صلی للی نیم کی کامل متابعت کے نتیجے میں نازل ہوئے ان کی تعداد 24, *297 الله ان مندرجات پر نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ واقعات جو بطور قصہ کہانی کے تھے اور دنیا میں کوئی انقلاب نہیں لا سکتے تھے حضرت مرزا صاحب نے ثابت کر دکھایا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور حضرت رسول کریم صلی علیم ایک زندہ نبی ہیں آپ کی متابعت کے تازہ ثمرات تازہ بتازہ ہر زمانے کے کامل اور بچے متبعین کے ذریعے ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ان کا قطعی ثبوت آپ کے مکالمات و مخاطبات ہیں۔کیا یہ بھی مولوی چراغ علی صاحب و غیر ہم کے بتائے ہوئے ہیں ؟ تو پھر انہوں نے خود ایسی کسی بات کو اپنی کتابوں میں کیوں درج نہیں کیا بلکہ وہ تو بر ہمو سماج کی ہی ایک شاخ بن گئے بجائے اسلام کی خدمت کرنے کے الٹا نقصان کا باعث بنے۔1-9 - حضرت مرزا صاحب کا سرسید تحریک پر تبصرہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام ” میں مولوی چراغ علی کے رہنما سر سید احمد خان کی پیر 11-1 میں بیان کردہ روش کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔