براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 203
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 203 اس طرح کے متعد د بیانات ہیں تو ہو ا کریں لیکن یادر ہے کہ یہ بات اس کتاب کے متعلق ہے جو اس دور کے لحاظ سے ایک خطیر رقم کے چیلنج کے ساتھ شائع کی گئی تھی جس کے بارے میں بلا سوچے سمجھے اور بلا ثبوت بات کر نانہایت غیر مناسب بات تھی جس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا نہایت ضروری ہے۔علاوہ ازیں ملاحظہ ہو کتاب ہذا کا پیر انمبر 5-4 جس میں ڈاکٹر سید عبد اللہ مرحوم کی اسی قسم کی بات کا جواب دیا گیا ہے۔جہاں تک انقلاب کا تعلق ہے وہ مضمون زیر نظر کے دائرہ سے باہر ہی سہی لیکن براہین احمدیہ جس زندہ خدا، زندہ کتاب اور زندہ رسول اکرم صلی ی کمی کی طرف بلاتی ہے اس پر مولوی عبد الحق / مولوی چراغ علی کی باتوں سے پردہ ڈالنے کی کوشش ترک کر دی جائے جو اس کتاب کا مطلوب و مقصود ہے۔اسی بارے میں اس کتاب کے پیرا8-1 میں بھی بات کی گئی ہے۔الله سل اگر یہ اتنی سنجیدہ بات نہ تھی تو پر و فیسر صاحب نے: اسے مولوی چراغ علی کی تفضیل میں بیان ہی کیوں کیا؟ "خاص تنقیح" نہ کرتے ہوئے بھی "ردعیسائیت میں "مولوی چراغ علی کو " اپنے معاصرین میں تحقیق و استدلال کے اعتبار سے نمایاں حیثیت۔"11 دیتے ہیں۔اور وہ بھی: حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی معہوڑ کے مقابلہ میں جن کے بارہ میں سرور کائنات صلی الیم فرماتے ہیں کہ اس کا کام ہی " یکسر الصلیب و یقتل الخنزیر " ہے جبکہ پروفیسر صاحب کو یہ جاننا ضروری تھا کہ کسر صلیب سے مراد لکڑی یا لوہے وغیرہ کی مادی صلیبوں سے نہیں ہے بلکہ صلیبی، تشکیشی عقیدہ کے پاش پاش کرنے سے ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ پروفیسر صاحب اس تنقیح سے قبل رد عیسائیت یا کسر صلیب کے بارے میں علم حاصل کرتے پھر تحقیق و استدلال کی بات کرتے۔اور اب بھی موصوف اس بارے میں مطالعہ / تحقیق کو ضروری نہیں سمجھتے اور نہ وقت نکال سکتے ہیں ! پروفیسر صاحب کا اصرار ہے کہ " کوئی بڑا انقلاب نہیں آیا ٹھیک ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب کی کذب بیانی سے کوئی بڑا انقلاب نہیں آیا۔راستی کے سامنے جھوٹ پھل سکتا ہے کب قدر کیا پتھر کی بھلا لعل بے بہا کے سامنے 12" لیکن اس سب کچھ کے باوجود پر و فیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کو یہ تسلیم ہے کہ : یہ ٹھیک ہے کہ اس طرح ایک غلط فہمی اور کذب بیانی کی تردید ہو جاتی ہے اور اس طرح کچھ ضمنی فوائد حاصل ہو جاتے ہیں لیکن یہ عمل کسی بڑے علمی یا کسی طرح کے انقلاب کا پیش خیمہ شاید نہیں بن سکتا۔" جب پروفیسر صاحب، مولوی عبدالحق صاحب کی پیدا کر دہ غلط فہمی اور کذب بیانی کی تردید کو تسلیم کرتے ہیں تو ہمارے کام کے بنیادی محرک کا نتیجہ تو ہمارے حق میں ہی نکل آیا اور اسی کے اندراج کا پروفیسر صاحب اور دیگر حضرات کی کتب میں ایک نوٹ کی صورت میں ہم بصد ادب و احترام مطالبہ کیا جاتا ہے۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ