براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 202
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 202 پر مزید مطالعے اور تحقیق کیلئے نہ اب وقت ہے اور نہ میں اسے ضروری سمجھ رہا ہوں۔اس لئے مسودہ کسی تاخیر کے بغیر واپس ارسال ہے۔بے حد شر مندہ ہوں کہ اپنی مجبوریوں کے باعث تعمیل ارشاد نہ کر سکا۔واجبات و احترامات کے ساتھ ، والسلام معین الدین عقیل (دستخط) 5 ہم مان لیتے ہیں کہ مکرم و محترم پروفیسر عقیل صاحب کے پاس" اب اس موضوع پر مزید مطالعے و تحقیق کیلئے وقت نہیں " اور نہ موصوف " اسے ضروری سمجھتے ہیں"۔جبکہ پروفیسر صاحب نے اس امر کا اندراج جب اپنی زیر حوالہ کتاب میں کیا تھا تو اس کے بارے میں اسی مکتوب میں لکھتے ہیں: " آپ نے میری جس کتاب کا حوالہ دیا ہے اور اس میں مولوی عبدالحق کے حوالے سے میری نقل کر وہ بات کی طرف اشارہ کیا ہے میں نے اس کی اصل اور حقیقت کی کوئی خاص تنقیح نہیں کی اور شاید اسے ضروری بھی نہ سمجھا۔" یعنی کتاب کی تصنیف کے وقت اندراج مولوی عبد الحق کے حوالے سے کر دیا اور : اصل اور حقیقت کی کوئی خاص تنقیح نہیں کی (لیکن کچھ تنقیح تو کی ہے ) اور "شاید اسے ضروری بھی نہ سمجھا"۔6" پھر اب: مزید مطالعے اور تحقیق کیلئے وقت نہیں اور اب بھی اسے "ضروری نہیں سمجھتے۔" اس کے باوصف ر قم طراز ہیں: ہاں میں اس بات کا قائل ہوں کہ تحقیق میں کسی طرح کی معلومات جو عام ہوں انہیں بغیر سند یا حوالہ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کے لئے چاہے کوئی ضمنی ماخذ ہی کیوں نہ ہو اسکا حوالہ ضروری ہے۔یہی میں نے کیا۔7 گویا آپ نے حوالہ تو دیا تھا لیکن خاص تنقیح کی زحمت گوارا نہ کی تھی اور اب بھی اس پر مزید مطالعے اور تحقیق کیلئے وقت نہیں پاتے اور نہ ضروری سمجھتے ہیں۔اس کے باوجود سمجھتے ہیں کہ : " اب یہ اچھا ہے کہ آپ کی اس کتاب کے آنے سے بہت سی معلومات، متعلقہ اسناد و حوالوں کے ساتھ ، یکجا صورت میں سامنے آئیں گی اور لوگ ان کے مطابق فیصلہ کر سکیں گے۔" 8 8" اس ناچیز راقم الحروف کی محنت کا جو محرک پروفیسر صاحب کو نظر آیا ہے اس کی بابت لکھتے ہیں: " اس سارے کام کا جو بنیادی محرک مجھے نظر آیا ہے وہ مولوی عبد الحق کا وہ بیان ہے جو " براہین احمدیہ " میں مولوی چراغ علی کی علمی معاونت کی طرف قاری کا ذہن منعطف کرتا ہے۔" جس کے بارے میں پروفیسر صاحب اسی مکتوب میں لکھتے ہیں: انگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اتنی شاید سنجیدہ بات نہ تھی کہ آپ اس کی تردید پر ایک طویل عرصہ صرف کر دیتے۔اس طرح کے متعدد بیانات تاریخ میں ہر حوالے سے موجود ہیں اور جن کی وجہ سے کوئی بڑا انقلاب نہیں آیا، اگر ہم ان کی تردید کیلئے مخصوص ہو جائیں تو دیگر بڑے کام جو ہم شاید کر سکتے ہیں نہ ہو سکیں۔" 10