براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 145 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 145

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام وسلم کے امور غیبیہ و برکات سماویہ ظاہر کئے اور کرتا ہے۔وہ آپ بھی پیش کیجئے۔69 اس مضمون کے شروع میں آپ درج فرماتے ہیں: 145 “ حضرات !! آپ خوب یادرکھیں کہ انجیل اور توریت کا کام نہیں کہ کمالات فرقانیہ کا مقابلہ کر سکیں۔اس کتاب میں فضائل فرقانیہ میں سے بیان ہو چکے ہیں مقابلہ کر کے دیکھ لیں یعنے : اول: وہ امر۔۔۔که فرقان مجید تمام الہی صداقتوں کا جامع ہے۔اور کوئی محقق کوئی ایسا بار یک دقیقہ الہیات کا پیش نہیں کر سکتا کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔سو آپ کی انجیل اگر کچھ حقیقت رکھتی ہے۔تو آپ پر لازم ہے کہ کسی مخالف فریق کے دلائل اور عقائد کو مثلاً بر ہمو سماج والوں یا آریا سماج والوں یا دہریہ کے شبہات کو انجیل کے ذریعہ سے عقلی طور پر رڈ کر کے دکھلاؤ۔اور جو جو خیالات ان لوگوں نے ملک میں پھیلا رکھے ہیں ان کو اپنی انجیل کے معقولی بیان سے دور کر کے پیش کرو۔اور پھر قرآن شریف سے انجیل کا مقابلہ کر کے دیکھ لو اور کسی ثالث سے پوچھ لو کہ محققانہ طور پر انجیل تسلی کرتی ہے یا قرآن شریف تسلی کرتا ہے۔دوسرے یہ کہ قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کر ادیتا ہے اور پھر وہ طالب خدائے تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہو کر اس کی طرف سے الہام پاتا ہے جس الہام میں عنایات حضرت احدیت اس کے حال پر مبذول ہوتی ہیں اور مقبولین میں شمار کیا جاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اس میں ہوتی ہیں اور حقیقت میں یہی پیوند جو اوپر لکھا گیا ہے حیات ابدی کی حقیقت ہے۔کیونکہ زندہ سے پیوند زندگی کا موجب ہے۔اور جس کتاب کی متابعت سے اس پیوند کے آثار ظاہر ہو جائیں۔اس کتاب کی سچائی ظاہر بلکہ اظہر من الشمس ہے۔کیونکہ اس میں صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ اس نے مطلب تک پہنچا دیا ہے۔حضرت مرزا صاحب بیان فرماتے ہیں کہ : اول: 70, فرقان مجید تمام الہی صداقتوں کا جامع ہے۔اس کے مقابلہ میں کسی مخالف فریق کے دلائل و عقائد کو انجیل سے معقولی طور پر دور کر کے پیش کرو۔اور کسی ثالث سے پوچھ لو کہ محققانہ طور پر انجیل تسلی کرتی ہے یا قرآن تسلی کرتا ہے۔قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کرا دیتا ہے ( وہ شخص ) اُس کی طرف سے الہام پاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے جو اس میں (یعنی الہام میں ) ہوتی ہیں۔اب کیا فرماتے ہیں پادری حضرات اور عیسائی صاحبان جن کو الہام ہوتا ہے اور اُس میں پیشین گوئیوں سے اُن کے الہام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔تاکہ بائبل مقدس کی ہی تعلیم کو روحانی ” کہا جا سکے۔جبکہ اسلام میں الہام کامل اور حقیقی کے پانے والے بے شمار