براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 146 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 146

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 146 لوگ پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں اور ہمیشہ ہوتے چلے جائیں گے جو تمام فرقوں کے اوہام باطلہ کو دور کر کے حق الیقین کے درجے تک پہنچا سکتے ہیں۔" اب پادری حضرات اور عیسائی بتائیں کہ بائبل کی تعلیم کی روحانی تاثیریں ہیں یا قرآن شریف ان روحانی تاثیر وں کا حامل ہے ؟ یقیناً قرآن شریف ہی روحانی تا شیروں کا حامل ہے اور بائبل ان سے کوسوں دور ہے۔حضرت مرزا صاحب اس سلسلے میں ایک مقام پر فرماتے ہیں: “ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ جس چراغ سے دوسر ا چراغ روشن ہو سکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسر اچراغ روشن نہ ہو سکے۔دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے اور حقیت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ ترو تازہ ہو تا رہتا ہے۔صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے۔اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہو جاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلت اور رسوائی اور روسیا ہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈ توں وغیرہ میں ثابت نہیں کر سکتے۔فتدبّر ايها الصادق في الطلب ايدك الله في طلبك کیا اس وقت اور آج کے پادری صاحبان اپنے وجود میں وہ برکتیں اور نور دیکھتے ہیں جن کو وہ روحانی تاثیر وں کا نام دیتے ہیں لیکن اُن کے ثبوت میں کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے اور نہ کر سکیں گے۔حضرت مرزا صاحب اس سلسلے میں آگے ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: “الہام ایک واقعی اور یقینی صداقت ہے جس کا مقدس اور پاک چشمہ دین اسلام ہے اور خد اجو قدیم سے صادق کا 71", 72" رفیق ہے دوسروں پر یہ نورانی دروازہ ہر گز نہیں کھولتا اور اپنی خاص نعمت غیر کو ہر گز نہیں دیتا۔اسی طرح ایک اور مقام پر حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: “ہم ہر وقت طالب صادق کو اس بات کا ثبوت دینے کے لئے موجود ہیں کہ وہ روحانی اور حقیقی اور سچی برکتیں کہ جو تابعین حضرت خیر الرسل میں پائی جاتی ہیں کسی دوسرے فرقہ میں ہر گز موجود نہیں۔جب ہم عیسائیوں اور آریوں اور دوسری غیر قوموں کی ظلمانی اور مجوب حالت پر نظر کرتے ہیں اور ان کے تمام پنڈتوں اور جو گیوں اور راہبوں اور پادریوں اور مشنریوں کو آسمانی نوروں سے بکلی محروم اور بے نصیب پاتے ہیں۔اور اس طرف اُمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں آسمانی نوروں اور روحانی برکتوں کا ایک دریا بہتا ہوا دیکھتے ہیں اور انوار البیہ کو بارش کی طرح برستے ہوئے مشاہدہ کرتے ہیں۔تو پھر جس ماجراکو ہم بچشم خود دیکھ رہے ہیں اور جس کی شہادتیں ہماری تار اور پود اور رگ اور ریشہ میں بھری ہوئی ہیں اور جس پر ہمارا ایک ایک قطرہ خون کا گواہ رویت ہے کیونکر اس سے منکر ہو جائیں۔کیا ہم امر معلوم کو نا معلوم فرض کر لیں یا مرکی اور مشہود کو غیر مرکی اور غیر مشہود قرار دے دیں کیا کریں۔ہم سچ سچ کہتے ہیں اور سچ کہنے سے کسی حالت میں رک نہیں سکتے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے نہ ہوتے