براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 144
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اب اس شرارت سے رُک جانا چاہیے۔144 وہ معترضین بھی ان امور کر پڑھ کر تسلیم کر لیں کہ بائبل موجودہ شکل میں خدا کا کلام نہیں رہی ہے۔اور تعلیم محمدی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور بائبل والے پیغمبر حضرت مسیح علیہ السلام جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے بلکہ اُن سے بڑھ کر حضرت رسول کریم محمد مصطفی صلی ا لکم من جانب اللہ پیغمبر ہیں۔بالله قرآن شریف کی روحانی تاثیریں اور انجیل پادری عماد الدین صاحب نے “ تعلیم محمدی صلی مرد کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ : “صرف بائبل مقدس کی ہی تعلیم روحانی ہے۔” اس امر کے جواب میں مولوی چراغ علی صاحب اپنی تعلیقات میں خامہ فرسائی سے قاصر ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ سوم میں برہمو سماج کے کتاب الہی اور الہام کے متعلق وساوس کا ذکر فرماتے ہوئے اُن کے وسوسہ دہم کا جواب دیتے ہوئے ایک مقام پر اپنے حاشیہ نمبر 11 میں ایک نئے مضمون کو حاشیہ در حاشیہ نمبر 2 میں درج فرماتے ہیں : 67", “الہام کامل اور حقیقی کہ جو برہمو سماج والوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کے ہر ایک قسم کے وساوس کو بکلی دور کرتا ہے۔اور طالب حق کو مر تبہ یقین کامل تک پہنچاتا ہے وہ فقط قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دُنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جو تمام فرقوں کے اوہام باطلہ دور کر سکے اور انسان کو حق الیقین کے درجہ تک پہنچا سکے۔پھر اس کے بعد اس اندھی اور بے تمیز دنیا کے تعصب مذہبی اور قومی اور دنیوی لالچوں سے الگ ہو کر قرآن شریف کی روشن صداقت کے قبول نہ کرنے کا ذکر فرماتے ہیں: بلکہ قبول کرنا تو در کنار ہمارے مخالفوں میں اس قدر شرم بھی باقی نہیں رہی کہ قرآن شریف کی بدیہی عظمتوں اور صداقتوں کو دیکھ کر اور اپنے مذہب کے فسادوں اور ضلالتوں پر مطلع ہو کر بد گوئی اور بد زبانی سے باز رہیں اور با وجود چور ہونے کے پھر چترائی نہ دکھلاویں۔مثلاً خیال کرنا چاہئے کہ عیسائیوں کے عقائد کا باطل ہونا کس قدر بدیہی ہے کہ خواہ نخواہ منہ زوری سے ایک عاجز مخلوق کو رب العالمین بنا رکھا ہے۔ایک پادری صاحب نے 3 مارچ 1882ء کے پرچہ نور افشاں میں یہ سوال پیش کر دیا۔۔ایسا ہی ایک عربی رساله موسوم به رساله عبد المسیح ابن اسحاق الکندی۔۔۔اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے جو قرآنی تعلیم کے بر خلاف ہو۔اور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔68 اس حاشیے میں ایک مقام پر حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: ہم حضرات عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کی انجیلی تعلیم راست اور درست اور خدا کی طرف سے ہے تو بمقابلہ قرآن شریف کی روحانی تاثیروں کے انجیل کی روحانی تاثیریں بھی دکھلائیے اور جو کچھ خدا نے مسلمانوں پر به برکت متابعت قرآن شریف اور بہ یمن اتباع حضرت محمد مصطفی افضل الرسل و خاتم الرسل صلی اللہ علیہ