براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 134
براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام جیسے ایڈورڈ سنیل لکھتے ہیں کہ : 134 "Wahi is the term given to the inspiration of the Quran, and it means that the very words of God۔" "Ilham: it is the inspiration of a saint or of a prophet whom, though rightly guided as to the matter of his communication, he puts it in his own words۔"144 جبکہ وحی و الہام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب مولوی ابو عبد اللہ قصوری کے ایک رسالے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ کی والدہ سے بطورِ الہام خدا کا کلام کرنا مریم سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا۔حواریوں سے بطورِ الہام خدا کا کلام کرنا خود قرآن شریف میں مندرج اور مرقوم ہے۔حالانکہ ان سب میں سے نہ کوئی نبی تھا اور نہ کوئی رسول تھا۔اور اگر مولوی صاحب یہ جواب دیں کہ ہم اولیاء اللہ کے ملہم من اللہ ہونے کے قائل تو ہیں مگر اس کا نام الہام نہیں رکھتے بلکہ وحی رکھتے ہیں۔اور الہام ہمارے نزدیک صرف دل کے خیال کا نام ہے جس میں کافر اور مومن اور فاسق اور صالح مساوی ہیں اور کسی کی خصوصیت نہیں تو یہ صرف نزاع لفظی ہے اور اس میں بھی مولوی صاحب غلطی پر ہیں۔کیونکہ لفظ الہام کہ جو اکثر جگہ عام طور پر وحی کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے۔وہ باعتبار لغوی معنوں کے اطلاق نہیں پاتا۔بلکہ اطلاق اس کا باعتبار عرف علماء اسلام ہے۔کیونکہ قدیم سے علماء کی ایسی ہی عادت جاری ہو گئی ہے کہ وہ ہمیشہ وحی کو خواہ وحی رسالت ہو یا کسی دوسرے مومن پر وحی اعلام نازل ہو۔الہام سے تعبیر کرتے ہیں۔اس عرف کو وہی شخص نہیں جانتا ہو گا جس کو حق کے قبول کرنے سے کوئی خاص غرض سد راہ ہے۔ورنہ قرآن شریف کی صدبا تفسیروں میں سے اور کئی ہزار کتب دین میں سے کسی ایک تالیف کو بھی کوئی پیش نہیں کر سکتا جس میں اس اطلاق سے انکار کیا گیا ہو۔بلکہ جابجا مفسروں نے وحی کے لفظ کو الہام ہی سے تعبیر کیا ہے۔کئی احادیث میں بھی یہی معنے ملتے ہیں جس سے مولوی صاحب بے خبر نہیں ہیں۔پھر نہ معلوم کہ مولوی صاحب نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ لفظ الہام کے کتب دین میں وہی معنے کرنے چاہئیں کہ جو کتب لغت میں مندرج ہیں۔جب کہ سواد اعظم علماء کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو استعمال کیا ہے۔تو پھر اس سے انحراف کر نا صریح تخم ہے۔"45 اس بحث اور وضاحت سے وحی و الہام کو الگ الگ قرار دینے کی بحث ہی ختم ہو جاتی ہے۔اور قرآن پاک کے بقائے دوام پر بھی کوئی حرف نہیں آتا۔جبکہ مولوی چراغ علی صاحب تو اپنی حین حیات میں ایڈورڈ سنیل کی اس تھپکی سے بہت محظوظ ہوئے ہوں گے! فی الواقعہ مولوی چراغ علی کی مذہبی سوچ (Religious Thought) ایک ناکام سوچ تھی جو مستشرقین کے اعتراضات سے بچنے کے لئے ان کے ہی دام میں پھنسنے کا اور پھنستے ہی چلے جانے کا اقدام تھا۔اس دُھن میں مولوی صاحب موصوف اشتعال انگیزیوں سے کام لیتے تھے جن کے ساتھ کسی قسم کی خدائی ہتھیاروں کی تائید شامل نہ تھی اور نہ ہی موصوف ان پر یقین رکھتے تھے۔جبکہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود موید من اللہ تھے۔آپ کا چیلنج اللہ تعالیٰ کا سکھلایا ہو اتھا۔جس کے مقابلے پر کوئی