براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 133 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 133

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام علی پر فدا ہوئے جاتے تھے ! 133 مولوی چراغ علی صاحب کی زندگی میں ہی موصوف کی اس تحریر کو پیش نظر رکھ کر لندن کے اس ماہنامہ “ Contemporary Review” کے ایک مضمون نگار ایڈورڈ سنیل Edward Snell نے اگست 1893ء میں ایک مضمون لکھا۔جس کا عنوان تھا“ The New Islam"۔اس میں موصوف نے مولوی چراغ علی صاحب (حکومت نظام کے ایک افسر) اور سید امیر علی صاحب (بنگال کی ہائی کورٹ کے ایک حج) کی کتب کو “ ایک نیا اسلام ” قرار دیا۔ایڈورڈ سنیل مولوی چراغ علی کے بارے میں لکھتے ہیں: "It speaks well for the moral courage of the men of the New Islam that they do not hesitate even in so serious a matter as this to discard the theory of Wahi, and to adopt that of Ilham alone۔Maulvi Charagh Ali says: " A Prophet in immaculate nor is falliable۔۔۔۔۔۔" This leaves room for a much liberal system of interpretation, but whether such a statement will ever be accepted such by any considerable number of Muslim theologians is a matter of grave doubt۔It entirely does away with the dogma of the eternity of the Quran, and in this respect brings the modern movement into accord with that of the earlier Mutazalas۔43 اس عبارت کے درمیان میں دی گئی عبارت کے ترجمہ یعنی پیغمبر نہ تو بے عیب ہوتا ہے اور نہ معصوم۔” کے متعلق کتاب زیر نظر کے پیر انمبر 3-5 میں تفصیلی روشنی ڈالی جاچکی ہے۔دیگر عبارت کا ترجمہ زیر حوالہ (18)3-5 دیا گیا ہے۔باقی کی عبارت کا ترجمہ درج ذیل ہے: نئے اسلام کے ( پر چاکوں ) کی اخلاقی جرات قابل تعریف ہے کہ وہ ایسے سنجیدہ معاملے میں بھی، چکچاتے نہیں ہیں، جس میں وحی کے نظریے کو ترک کیا جاتا ہے اور صرف الہام کو چن لیا جاتا ہے۔مولوی چراغ علی لکھتے ہیں: (نوٹ: اس سے آگے حوالہ نمبر (18)3-5 میں دی گئی عبارت ہے۔جس کا ترجمہ اور متن او پر درج کیا گیا ہے۔) اس میں نرم تشریح و تعبیر کی بہت سی گنجائش موجود ہے۔لیکن کیا اسے علماء اسلام کی ایک بڑی تعداد کبھی قبول کرے گی۔یہ ایک شدید شک وشبہ کا معاملہ ہے۔اس سے یہ عقیدہ یکسر منسوخ ہو جاتا ہے کہ قرآن کو بقائے دوام حاصل ہے۔اس معاملے میں یہ جدید تحریک ابتدائی معتزلہ سے موافقت رکھتی ہے۔" یہ ہے مولوی چراغ علی صاحب کی مذکورہ عبارت کا نتیجہ جو ایڈورڈ سنیل نے نکالا ہے۔جس کے تحت قرآن کریم کے بقائے دوام سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔اور اس کا نشانہ ہے وحی و الہام جسے الگ الگ بیان کر کے الہام کو چن لیا گیا ہے۔جس سے مذکورہ عقیدے کی بنیاد کھڑی کی گئی ہے: