براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 130
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 130 of the Koran on the civil law, most of the deductions being fortuitous interpretations۔" (Introduction xvii) (The Proposed Political, legal and social reforms۔By Maulavi Cheeragh Ali۔) اس کا ترجمہ مولوی چراغ علی کے مترجم مولوی عبدالحق صاحب یوں کرتے ہیں: “اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو سو آیات قرآنی سول لا کے متعلق کوئی خاص تعلیم یا محکم قواعد نہیں ہیں، ان میں سے بہت سے نتائج اٹکل پچو معلوم ہوتے ہیں۔"38 مولوی چراغ علی کی وفات پر ہاتھ ملنے والے موصوف کے مضمون “العلوم الجديدة والا سلام ”جو سر سید کے رسالہ تہذیب الاخلاق میں شائع ہونا شروع ہوا تھا ، کی عدم تکمیل پر مولوی چراغ علی صاحب کے آخری خط کو جس میں چراغ علی صاحب نے اس مضمون کی پانچویں قسط کے بعد لکھے جانے والے خط میں لکھا جو سرسید نے “تہذیب الاخلاق یکم ذی الحج سنہ 1312 ہجری / 1895ء میں صفحہ 56 پر شائع کیا تھا۔مولوی چراغ علی لکھتے ہیں : ان سب کے بعد اب اصل بحث آتی ہے کہ علم کلام و عقاید کی روسے کون کو نسا مسئلہ حکماء فلسفہ کے خلاف ہے۔اور انہیں مسائل کے متعلق علوم جدیدہ میں ان کی تائید ہوتی ہے یا مخالفت اور بتلایا گیا ہے کہ علوم جدیدہ ان مسائل اختلافیہ میں علم کلام کی تائید میں ہیں۔اور علم کلام کے ذکر کے قبل یہ میں لکھنا بھول گیا ہوں کہ علوم دینیہ کیا کیا ہیں اور وہ کہاں تک فلسفہ و حکمت کے اعتراضات کی تردید کر سکتے ہیں۔فقہ و تفسیر وحدیث حکما کے مقابلہ میں کچھ کار آمد نہیں ہیں۔اور اس غرض سے علم کلام ایجاد کیا گیا تھا۔مگر اب وہ بھی مفید وکار آمد نہیں رہا۔اخیر پر اس سوال کا جواب ہے جو اس مضمون کی ابتداء میں تھا۔اس کے بعد میں کچھ اس کا ذکر ہو گا کہ اب تک اس قسم کی کتابیں جن میں تطبیق بین الحکمت والا سلام ہوتی ہے کیا کیا تصنیف ہوئیں اور آئندہ کسی قسم کی کتابیں تصنیف ہونی چاہئیں۔نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی) مولوی چراغ علی صاحب کا قطعی فیصله در باره فقه ، تفسیر وحدیث کے کار آمد نہ ہونے کا تو اس آخری خط سے عیاں راچہ بیاں ہے۔لیکن اُن کی تحقیق کہ وہ اب تک اس قسم کی کتابیں جن میں تطبیق بین الحکمت والا سلام ہوتی ہے۔بظاہر پر دہ خمول میں چلا گیا لگتا ہے کیونکہ موصوف کے خط کے بعد اُن کی وفات ہو گئی تھی۔لیکن مولوی چراغ علی صاحب نے اس کی وضاحت و نشاند ہی اپنے ایک طول طویل مضمون “اسلام کی دنیوی برکتیں ” "For Obvious reforms which Islam has produced upon the welfare of mankind" میں کر دی تھی۔جو بالا قساط سرسید کے رسالہ “ تہذیب الاخلاق ” میں ہی شائع ہو تا رہا تھا۔اسے جلد سوم “تہذیب الاخلاق ” کے مضامین کے نام سے ملک فضل الدین ملک چنن الدین ملک تاج الدین ککے زئی تاجران کتب قومی کوچه سگکے زئیاں منزل نفق بازار کشمیری لاہور ( تاریخ ندارد) سے شائع کیا گیا۔اس کے صفحہ نمبر ۸۷ پر مولوی چراغ علی صاحب نقشنمندی Modern writers attempted to imitate European forms of thoughts and sentiments۔کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : “ اس زمانہ میں بعض دور اندیش درد مند اور مستعد مسلمانوں نے یورپ کے علوم جدیدہ کا اکتساب اور علوم اسلامی سے اُس کی تطبیق دینی