براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 129
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام ہے۔اس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں۔آئندہ کسی عاقل کے لیے کسی نئے دقیقہ کے پیدا کرنے کی جگہ نہیں چھوڑتا۔حالانکہ یہ اس قدر قلیل الحجم کتاب ہے جو یہ تحریر میانہ چالیس ورق سے زیادہ نہیں۔۔اس کی کوئی شخص دو چار سطر بنانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔خواہ دنیا کے صدر باز باند انوں اور انشا پر دازوں کو اپنامدد گار بنالے۔اور یہ معجزہ اب بھی ثابت ہو سکتا ہے 129 کیونکہ کلام کی عظمت و شوکت متکلم کی علمی طاقتوں کے تابع ہے۔انسان کی علمی طاقتیں خدا تعالیٰ کی علمی طاقتوں سے ہر گز برابر نہیں ہو سکتیں۔اثبات حقانیت فرقان مجید اثبات نبوت محمدیہ کے نوٹ کے آخر پر جو عبارت براہین احمدیہ سے نقل کی گئی تھی۔اُس کا ایک حصہ یہاں بھی دہرایا جاتا ہے یعنی: (کیونکہ قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کر ادیتا ہے اور پھر وہ طالب خدائے تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہو کر اس کی طرف سے الہام پاتا ہے جس الہام میں عنایات حضرت احدیت اس کے حال پر مبذول ہوتی ہیں اور مقبولین میں شمار کیا جاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اس میں ہوتی ہیں اور حقیقت میں یہی پیوند جو اوپر لکھا گیا ہے حیات ابدی کی حقیقت ہے۔کیونکہ زندہ سے پیوند زندگی کا موجب ہے۔اور جس کتاب کی متابعت سے اس پیوند کے آثار ظاہر ہو جائیں۔اس کتاب کی سچائی ظاہر بلکہ اظہر من الشمس ہے۔کیونکہ اس میں صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ اس نے مطلب تک یہ پنچا دیا ہے۔"36 (کیونکہ قرآن شریف کی حقانیت معلوم کرنے کے لئے اب بھی وہی معجزات قرآنیہ اور وہی تاثیرات فرقانیہ اور وہی تائیدات غیبی اور وہی آیات لار یہی موجود ہیں جو اُس زمانہ میں موجود تھی خدا نے اس دین قویم کو قائم رکھنا تھا اس لئے اس کی سب برکات اور سب آیات قائم رکھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کے ادیان محرفہ اور باطلہ اور ناقصہ کا استیصال منظور تھا اس جہت سے انکے ہاتھ صرف قصے ہی قصے رہ گئے اور برکت حقانیت اور تائیدات سماویہ کا نام و نشان نہ رہا۔ان کی کتابیں ایسے نشان بتلا رہی ہیں جن کے ثبوت کا ایک ذرانشان اُن کے ہاتھ میں نہیں صرف گزشتہ قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر قرآنِ شریف ایسے نشان پیش کرتا ہے جن کو ہر یک شخص دیکھ سکتا ہے۔"37 6-8۔حقانیت قرآن شریف میں حضرت مرزا صاحب کا زندہ نظام اور مولوی چراغ علی مولوی چراغ علی صاحب حقانیت قرآن پر کیا دلائل دیں گے۔مولوی صاحب اس موضوع سے کوسوں دور تھے۔آپ کے نزدیک توسول لاء پر قرآنی تعلیمات Fortuitous( اٹکل پچو یعنی خیالی، قیاسی ، اوٹ پٹانگ، بے قرینہ ) تھیں۔جیسا کہ موصوف لکھتے ہیں:۔"This will show that the two hundred verses are not specific rules or particulatr teachings